مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 90

مشعل راه جلد پنجم 90 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سورہ آل عمران کی درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنتَ لَهُمْ وَ لَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرُلَهُمْ وَشَاوِرُ هُمُ فِى الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلُ عَلَى اللهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ اس کے بعد ارشاد فرمایا:- ( آل عمران: ۱۶۰) نظام جماعت بچپن سے ہر احمدی کو محبت کی لڑی میں پروکر رکھتا ہے۔جماعت احمدیہ کا نظام ایک ایسا نظام ہے جو بچپن سے لے کر مرنے تک ہر احمدی کو ایک پیارا اور محبت کی لڑی میں پروکر رکھتا ہے۔بچہ جب سات سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسے ایک نظام کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے اور وہ مجلس اطفال الاحمدیہ کا ممبر بن جاتا ہے۔ایک بچی جب سات سال کی عمر کو پہنچتی ہے تو وہ ناصرات الاحمدیہ کی رکن بن جاتی ہے جہاں انہیں ایک ٹیم ورک کے تحت کام کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔پھر انہی میں سے ان کے سائق بنا کر اپنے عہد یدار کی اطاعت کا تصور پیدا کیا جاتا ہے۔پھر پندرہ سال کی عمر کو جب پہنچ جائیں تو بچے خدام الاحمدیہ کی تنظیم میں اور بچیاں لجنہ اماءاللہ کی تنظیم میں شامل ہو جاتی ہیں اور ایک انتظامی ڈھانچے کے تحت بچپن سے تربیت حاصل کر کے اوپر آنے والے بچے اور بچیاں ہیں جب نوجوانی کی عمر میں قدم رکھتے ہیں تو ان نیک تنظیموں میں شامل ہونے سے جماعتی نظام اور طریقوں سے ان کو مزید واقفیت پیدا ہوتی ہے۔اور عمر کے ساتھ ساتھ چونکہ اب یہ بچے اور بچیاں اس عمر کو پہنچ جاتے ہیں کہ جس میں شعور پیدا ہو جاتا ہے۔اس لئے پندرہ سال کی عمر کے بعد یہ خود بھی اپنے میں سے ہی اپنے عہدیدار منتخب کرتے ہیں اور ان کے تحت ان کی تربیت ہو رہی ہوتی ہے اور انتظام چل رہا ہوتا ہے۔ذیلی تنظیموں کے قیام کے مقاصد تو پندرہ سال کی عمر کے بعد جیسا کہ میں نے کہا کہ لجنہ یا خدام میں جا کر یہ لوگ اپنے عہد یدار اپنے میں