مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 77
مشعل راه جلد پنجم 77 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی نیکیاں ادا کرنے کی توفیق ملنا شروع ہو جاتی ہے۔تبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب ایک شخص حاضر ہوا تھا اور اس نے عرض کی کہ میرے اندر اتنی برائیاں ہیں کہ میں تمام کو تو چھوڑ نہیں سکتا مجھے صرف ایک ایسی بیماری یا کمزوری یا برائی کے بارے میں بتائیں جسکو میں آسانی سے چھوڑ سکوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے زیادہ انسان کی نفسیات اور فطرت کو سمجھنے والے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔تم یوں کرو کہ صرف جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔وہ شخص بڑا خوش ہوا کہ چلو یہ تو بڑا آسان کام ہے اٹھ کر چلا گیا اور اس وعدے کے ساتھ اٹھا کہ آئندہ کبھی جھوٹ نہیں بولے گا۔رات کو جب اس کو چوری کا خیال آیا کیونکہ وہ بڑا چور تھا اسکو خیال آیا کہ اگر چوری کرتے پکڑا گیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش ہوں گا اور اقرار کرتا ہوں تو سزا ملے گی، شرمندگی ہوگی اگر انکار کیا تو یہ جھوٹ ہے۔تو جھوٹ میں نے بولنا نہیں کیونکہ وعدہ کیا ہوا ہے تو آخر اسی شش و پنج میں ساری رات گزرگئی اور وہ چوری پر نہ جاسکا۔پھر زنا کا خیال آیا تو پھر یہی بات سامنے آگئی شراب نوشی اور دوسری برائیوں کا خیال آیا تو پھر یہی پکڑے جانے کا خوف اور جھوٹ نہ بولنے کا عہد یاد آتا رہا۔آخر کار ایک دن وہ بالکل پاک صاف ہو کر حاضر ہوا اور کہا کہ اس جھوٹ نہ بولنے کے عہد نے میری تمام برائیاں دور کر دی ہیں تو یہ ہے بیچ کی برکت کہ صرف عہد کرنے سے ہی کہ میں سچ بولوں گا برائیاں دور ہوگئیں۔تو جب کسی موقع پر آپ سچ بول رہی ہوں گی اور سچ کا پر چار کر رہی ہوں گی تو پھر اس میں کس قدر برکتیں ہوں گی بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ذاتی گھریلو بجشیں عہدہ داروں کے خلاف جھوٹی شکایتوں کی وجہ بن رہی ہوتی ہیں اور جب تحقیق کرو تو پتہ لگتا ہے کہ اصل معاملہ تو دیورانی جٹھانی کا یانند بھا بھی کا یا ساس بہو کا ہے نہ کہ جماعتی مسئلہ ہے اس لئے ہمیشہ سچ کو مقدم رکھیں سچ کو سب چیزوں سے زیادہ آپ کی نظر میں اہمیت ہونی چاہیے۔کچی گواہی دیں۔اپنے بچوں کو سچ بولنا سکھائیں۔بچوں میں سچ بولنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے یہاں پر پھر میں وہی بات کہوں گا کہ بچوں کو سکولوں میں سچ بولنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اس معاشرہ میں اور اس کی تعلیم بھی دی جاتی ہے سکولوں میں بتایا جاتا ہے کہ سچ بولنا ہے۔تو جب بچہ گھر آتا ہے تو ایسی مائیں یا باپ جن کو نہ صرف سچ بولنے کی آپ عادت نہیں ہوتی بلکہ بچوں کو بھی بعض دفعہ ارادہ یا غیر ارادی طور