مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 174
مشعل راه جلد پنجم 174 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ساتھ بیٹھنا اٹھنا اس کا پاس لحاظ رکھنا یہ بھی اس کے لئے ایسا ہی ہے جیسا کسی مالدار شخص کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اس کا پاس لحاظ کرنا ہے۔یہ ہے (دینی) تعلیم کہ تم خدا تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا اپنے ظاہری رکھ رکھاؤ سے اظہار بھی کرو لیکن اس کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق ان غریبوں کا بھی خیال رکھو تا کہ ان کا ایک بھائی کی حیثیت سے حق پورا ادا ہو۔حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب نے جب آئی سی ایس کا امتحان پاس کیا تو سول سروس میں گئے کیونکہ برصغیر میں عموماً افسر اپنے آپ کو عام آدمی سے بالا سمجھتے تھے اور اب بھی اکثر پاکستان وغیرہ میں جو بیوروکریٹ ہیں سمجھتے ہیں کہ ہم کوئی ایسی شخصیت ہیں جو دوسروں سے بالا ہیں اور غریب آدمی کے وقت اور عزت کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔حضرت میاں صاحب جب اپنے علاقے میں افسر بن کر گئے تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اور نصائح کے علاوہ ان کو ایک یہ بھی نصیحت کی تھی کہ تمہارے گھر کا کوئی قالین کا ٹکٹر یا ڈرائینگ روم کا صوفہ کسی غریب کو تمہارے گھر میں قدم رکھنے یا بیٹھنے سے نہ رو کے یا روک نہ بنے۔بڑی پر حکمت نصیحت ہے۔ایک تو یہ کہ غریب بھی تمہارے گھر میں بے جھجک آسکے، کوئی روک نہ ہو۔دوسرے اس کو بھی وہی عزت دو جو کسی امیر کو دو۔تو حضرت میاں صاحب نے ہمیشہ غریبوں کا بہت خیال رکھا اور اس نصیحت پر عمل کیا۔ہمارے آج کل کے افسروں کو بھی اس نصیحت کو پلے باندھنا چاہیے۔یہ نہیں کہ سفر کی وجہ سے کسی غریب کے کپڑے میلے ہیں تو اس کے صوفے پر بیٹھنے سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہو۔پھر صفائی کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشبو لگانے کو بھی بہت پسند فرمایا ہے اور اس تھنے کو بھی بڑا پسند کیا کرتے تھے۔ایک روایت میں ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں کوئی دوست بطور تحفہ خوشبو دے تو اسے قبول کرو اور اسے استعمال کرو۔( مسندالامام الاعظم۔کتاب الادب ) روایت آتی ہے کہ آپ کے جسم میں سے تو ہر وقت خوشبو آتی رہتی تھی۔جیسے حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ایک دفعہ میرے گال پر ہاتھ پھیرا تو آپ کے ہاتھ سے میں نے ایسی اعلیٰ درجہ کی خوشبو محسوس کی جیسے وہ ابھی عطار کی صندوقچی سے باہر نکلا ہو۔(مسلم۔کتاب الفضائل باب طیب رائحتہ النبی) یعنی جو شخص عطر بناتا ہے اس کا جوڈ بہ جس میں عطر پڑے ہوتے ہیں جس طرح اس میں سے ہاتھ نکالا ہو۔حضرت جابر ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس راستے سے گزرتے ، اس پر اگر کوئی