مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 133
مشعل راه جلد پنجم 133 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کہ عام طور پر ایسے، اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے والے، لڑائی کرنے والے، فتنہ وفساد پیدا کرنے والے، لاقانونیت پھیلانے والے جب قانون کی گرفت میں آتے ہیں تو پھر صلح کی طرف رجوع کرتے ہیں، سفارشیں آرہی ہوتی ہیں کہ ہمارے سے صلح کرلو۔تو فرمایا کہ اصل میں تو تمہارے مدنظر اصلاح ہے اگر سمجھتے ہو کہ معاف کرنے سے اس کی اصلاح ہوسکتی ہے تو معاف کردو لیکن اگر یہ خیال ہو کہ معاف کرنے سے اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی یہ تو پہلے بھی یہی حرکتیں کرتا چلا جارہا ہے اور پہلے بھی کئی دفعہ معاف کیا جا چکا ہے۔لیکن اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ، نا قابل اصلاح شخص ہے تو پھر بہر حال ایسے شخص کو سزاملنی چاہیے۔اور اس کے مطابق جماعتی نظام میں بھی تعزیر کا سرا کا طریق رائج ہے، جب اللہ تعالیٰ کے احکامات کو توڑو گے، جب دوسروں کے حقوق غصب کرو گے، جب بھائی کی زمین یا جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوشش کرو گے، جب بیوی پر ظلم کرو گے تو نظام کی طرف سے تو سزا ملے گی۔جس کو سزا ملی ہو وہ درخواستیں لکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تو معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ، فوراً معاف کرنے والا حکم ان کے سامنے آ جاتا ہے اور اس کے مفسر بن جاتے ہیں۔اگلی بات بھول جاتے ہیں کہ اصلاح کی خاطر سزا دینا بھی اللہ کا حکم ہے۔ہر احمدی کو ہر وقت یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر اس بھیانک معاشرے میں اس نے بھی اپنا رویہ ٹھیک نہ کیا تو پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق وہ جماعت سے کاٹا جائے گا۔بہر حال اصلاح کی خاطر عفو سے کام لینا مستحسن ہے۔لیکن اگر بدلہ لینا ہے تو ہر ایک کا کام نہیں ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔یہ قانون کا کام ہے کہ اصلاح کی خاطر قانونی کارروائی کی جائے یا اگر نظام جماعت کے پاس معاملہ ہے تو نظام خود دیکھے گا ہر ایک کو دوسرے پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت بہر حال نہیں ہے۔چھوٹی موٹی غلطیوں سے درگزر کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے جیسا کہ میں نے شروع میں کہا کہ چھوٹی موٹی غلطیوں سے درگزر کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ معاشرے میں صلح جوئی کی بنیاد پڑے صلح کی فضا پیدا ہو۔عموماً جو عادی مجرم ہوتے ہیں وہ درگزر کے سلوک سے عام طور شرمندہ ہو جاتے ہیں اور اپنی اصلاح بھی کرتے ہیں اور معافی بھی مانگ لیتے ہیں۔اس ضمن میں حضرت مصلح موعود نے بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔فرماتے ہیں کہ:-