مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 128
مشعل راه جلد پنجم 128 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مدد مانگنے والوں کو بھی عادت نہیں بنالینی چاہیے تو یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ایک تو یہ کہ قرض مقررہ میعاد کے اندر ادا کیا جائے جس کا دعدہ کیا گیا ہے۔اور اگر پتہ ہے کہ واپس نہیں کر سکتے کیونکہ وسائل ہی نہیں ہیں اور غلط بیانی کر کے میعاد مقرر کر والی ہے تو پھر بہتر ہے کہ خائن بننے کی بجائے مدد مانگ لی جائے۔لیکن جھوٹ اور خیانت کے مرتکب نہیں ہونا چاہیے۔لیکن مد مانگنے والوں کو بھی عادت نہیں بنالینی چاہیے کیونکہ سوائے انتہائی اضطراری حالت کے اس طرح مدد مانگنا بھی منع ہے اور معیوب سمجھا گیا ہے۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے سخت خلاف تھے۔شکایت کرنے کا درست انداز اس حوالے سے مزید وضاحت کر دیتا ہوں۔بعض عہدیداران کی شکایت کر دیتے ہیں کہ فلاں امیر ایسا ہے، فلاں امیر ایسا ہے، رویہ ٹھیک نہیں ہے یا فلاں عہدیدار ایسا ہے، کوئی کام نہیں کر رہا۔اور کوئی معین بات بھی نہیں لکھ رہے ہوتے۔اور پھر خط کے نیچے اپنا نام بھی نہیں لکھتے۔تو یہ منافقت ہے۔ایک طرف تو اس عہد کے سخت خلاف ہے کہ جان قربان کر دوں گا جماعت کیلئے اور عزت بھی قربان کر دوں گا جماعت کیلئے۔اور دوسری طرف اپنا نام تک شکایت میں چھپاتے ہیں کہ امیر یا فلاں عہد یدار ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔اس کا مطلب یہ ہے وہ اس حدیث کی رو سے بدظنی بھی کر رہے ہیں اور تقویٰ سے بالکل عاری ہیں۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ ایسا ہی ہے تو پھر وہ شکایت کرنے والا کونسا تقویٰ سے خالی نہیں ہے۔کیونکہ اس کے دل میں امیر کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے زیادہ ہے۔اور جس کے دل میں اللہ کا خوف نہیں ہے وہ مومن بہر حال نہیں ہو سکتا۔اور اس کے علاوہ اندر ہی اندر لوگوں میں بھی شکوک پیدا کرتا ہے۔خود بھی منافقت کر رہا ہوتا ہے اور خیانت کا بھی مرتکب ہو رہا ہوتا ہے۔لوگوں کے ذہنوں کو بھی گندہ کر رہا ہوتا ہے۔اس لئے اس بارہ میں میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ بغیر نام کے کوئی درخواست ، کوئی شکایت کبھی بھی قابل پذیرائی نہیں ہوتی۔اور اب یہ دوبارہ بھی واضح کر دیتا ہوں۔اس لئے اگر جماعت کا درد ہے۔اصلاح مدنظر ہے تو کھل کر لکھیں اور اگر اس کی وجہ سے کوئی عہد یدار شکایت کرنے والے سے ذاتی عناد بھی رکھتا ہے ، مخالفت بھی ہو جاتی ہے تو یہ معاملہ خدا پر چھوڑیں اور دعاؤں میں لگ جائیں۔اگر نیت نیک ہے تو اللہ تعالیٰ ہر شر سے محفوظ رکھے گا۔بے نام لکھنے کا مطلب تو یہ ہے کہ لکھنے والا خود خائن ہے۔الفضل انٹر نیشنل 16 تا 22 اپریل 2004ء)