مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 106
مشعل راه جلد پنجم 106 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی اللہ کی قسم! ہم ولایت کی خدمت اس کے سپر دنہیں کرتے جو اس کی درخواست کرے یا اس کی حرص کرے۔(مسلم کتاب الامارة ، باب النھی عن طلب الامارة والحرص عليها ) پھر عبدالرحمن بن سمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- ”اے عبدالرحمن ! عہدہ اور حکومت کی درخواست مت کر۔کیونکہ اگر درخواست سے تجھ کو ( عہدہ یا حکومت) ملے تو اس کا بوجھ تجھ پر ہوگا اور اگر بغیر سوال کے ملے تو خدا تعالیٰ کی نصرت شامل حال ہو گی۔(مسلم کتاب الامارۃ ، باب النھی عن طلب الامارة والحرص عليها ) حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:- بعض لوگوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اس قسم کے عہدے لینے کے لئے مجالس میں شامل ہوتے ہیں ایسے لوگ لعنت ہوتے ہیں اپنی قوم کے لئے ، اور لعنت ہوتے ہیں اپنے نفس کیلئے۔وہ وہی ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ) الَّذِينَ هُمُ عَنْ صَلوتِهِمْ سَاهُونَ O الَّذِينَ هُمْ يُرَآءُ وَنَO ( الماعون ۵ تا ۷ )۔ریا ہی ریا ان میں ہوتی ہے کام کرنے کا شوق ان میں نہیں ہوتا۔(مشعل راہ جلد اول صفحه ۲۰-۲۱)۔" پھر حضرت مصلح موعود نے کارکنان کو ہدایات دیتے ہوئے ایک جگہ فرمایا کہ:- کارکنان کو چاہیے کہ تندہی سے کام کریں۔یہ خواہش کہ ہمارا نام ونمود ہو۔ایسا خیال ہے جو خراب کرتا ہے۔اس خیال کے ماتحت بہت لوگ خراب ہو گئے ہیں، ہوتے ہیں، ہوتے رہیں گے۔تم اللہ سے ڈرو اور اسی سے خوف کرو۔اور اس بات کو مدنظر رکھو کہ اس کا کام کر کے اس سے انعام کے طالب ہو۔۔۔۔اور لوگوں سے مدح اور تعریف نہ چاہو۔اللہ تعالیٰ ہمارے کاموں میں للہیت پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے اور مجھ پر بھی رحم کرے۔آمین پھر آپ نے فرمایا کہ:- ( خطبات محمود جلدے خطبہ جمعه فرموده ۲۲ دسمبر ۱۹۲۲ء صفحه ۴۳۳) افسران سلسلہ کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خصوصیت سے اپنے اخلاق درست کریں۔اگر ضدی لوگ آ جائیں تو ان کو بھی محبت اور پیار سے سمجھانے کی کوشش کیا کریں اور پوری محنت اور اخلاص سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔اس امر کی طرف خدا تعالیٰ نے وَ النَّازِعَاتِ غَـرقـاً