مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 92
مشعل راه جلد پنجم 92 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ کا جو حکم ہے اس طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اور یہی چیز ان کو زیادہ احساس دلا رہی ہے یا کم از کم احساس دلانا چاہیے کہ اپنی طبیعتوں میں نرمی پیدا کرنے کی طرف زیادہ توجہ دیں۔اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دینے کے احساس کو زیادہ ابھارنے کی ضرورت ہے۔نظامِ جماعت کی ذمہ داری ادا کرتے وقت اپنی اناؤں اور خواہشات کو مکمل ختم کر کے خدمت سرانجام دینے کی طرف توجہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے اور پہلے سے بڑھ کر ضرورت ہے۔ذرا ذراسی بات پر غصے میں آنے کی عادت کو عہد یداران کو ترک کرنا ہوگا اور کرنا چاہیے۔جماعتی عہد یدار قوم کے سردار نہیں ، قوم کے خادم ہیں جماعت کے احباب سے پیار محبت کے تعلق کو بڑھانے ، ان کی باتوں کوغور سے سننے اور ان کے لئے دعائیں کرنے کی عادت کو مزید بڑھانا چاہیے۔تبھی سمجھا جاسکتا ہے کہ عہد یداران اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کر رہے ہیں یا کم از کم ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جماعت احمدیہ میں عہد یدار اسٹیجوں پر بیٹھنے یا رعونت سے پھرنے کے لئے نہیں بنائے جاتے بلکہ اس تصور سے بنائے جاتے ہیں کہ قوم کے سردار قوم کے خادم ہیں۔تمام عہدیداران خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جماعت کو اکٹھا رکھنے کیلئے ایک رہنما اصول اس آیت میں بتا دیا ہے جو میں نے تلاوت کی ہے۔تو اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوبی کی وجہ سے کہ آپ کے دل میں لوگوں کیلئے نرمی اور محبت کے جذبات تھے، لوگ آپ کے ارد گرد اکٹھے ہوتے تھے اور آپ کے پاس آتے تھے، تو پھر میں اور آپ ہم کون ہوتے ہیں جو محبت اور پیار کے جذبات لوگوں کے لئے نہ دکھا ئیں؟ اور امید رکھیں کہ لوگ ہماری ہر بات مانیں۔ہمیں تو اپنے آقا کی اتباع میں بہت بڑھ کر سعاجزی، انکساری، پیار اور محبت کے ساتھ لوگوں سے پیش آنا چاہیے کیونکہ خلیفہ وقت کے لئے تو ہر ملک میں، ہر شہر میں یا ہر محلہ میں جا کر لوگوں کے حالات سے واقفیت حاصل کرنا مشکل ہے۔یہ نظام جماعت قائم ہے جیسا کہ میں نے بتایا کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے۔وہ تمام عہد یدار چاہے ذیلی تنظیموں کے عہد یدار