مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 80

80 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم کترے ہیں۔جیبیں کاٹی جاتی ہیں ، ڈاکومنٹس (Documents) چوری ہو جاتے ہیں۔میں اپنا پاسپورٹ گھر جان کر چھوڑ کے آیا۔انہوں نے ڈرا تو دیا یہ بتانا بھول گئے کہ یہاں پولیس اتنی سخت ہے کہ اگر پاسپورٹ کے بغیر پکڑا جائے تو اسی وقت اس کو قید کر دیتے ہیں۔چنانچہ میں گاڑی میں ابھی بیٹھا ہی تھا میر محمود احمد صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔تو پولیس والا آیا ہمیں اس کی زبان تو آتی نہیں تھی۔اس نے کہا کا شیح۔کارڈ دکھاؤ۔میں نے کہا میرے پاس تو کوئی نہیں ہے۔اس نے کہا کہ اچھا آجاؤ پھر میرے ساتھ۔اب اس بیچارے کو قید خانہ کوئی ملے نہ گاڑی میں اور چھ سات گھنٹے کا سفر تھا۔اب وہ میرے ساتھ بیٹھ کر یہ سارا عرصہ خود پابند ہو کر نہیں گزارنا چاہتا تھا۔وہ ذرا آرام طلب لوگ ہیں۔ہم تو تھرڈ کلاس میں تھے۔اس کو فرسٹ کلاس کا ایک خالی ڈبہ ملا۔اسی میں اس نے مجھے قید کر دیا۔میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ بڑی اچھی قید ہے۔فرسٹ کلاس کی سیٹ پر میں نے بڑے مزہ سے سفر طے کیا۔وہاں تھانے میں جا کر بیٹھ گئے۔اس کو میں نے پھر آخر کہا بلاؤ تو کسی ترجمان کو۔انہوں نے ایک ترجمان بلایا۔ایک امریکن ہوٹل میں کام کرتا تھا۔اس کو میں نے کہا تم لوگ بڑے عجیب ہو۔ہم تو سمجھتے تھے بڑے مہمان نواز لوگ ہیں۔اچھا تم نے ہمیں الحمراء دکھایا ہے کہ تھانے لا کر بٹھا دیا۔تو تھانے دار نے یہ شفقت کی کہ میر محمود احمد صاحب سے کہا کہ تم اپنا پاسپورٹ چھوڑ جاؤ اور تم دونوں جا کر سیر کرو اور ہماری نگرانی بھی ہوئی اور ہم نے اسی نگرانی میں سیر کی۔واپس آنے تک معاملہ صاف ہو گیا تھا۔کرم الہی صاحب ظفر کو ہم نے پیغام بھیجا تھا انہوں نے وہاں منسٹری میں جا کر شور ڈالا تو بڑی سختی سے وہاں سے تھانیدار کو فون آیا اور چونکہ پولیس سٹیٹ تھی۔پولیس کے افسروں سے خود پولیس بڑا سخت ڈرتی تھی۔تو میں نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ فون پر ادھر سے کوئی افسر بڑی تیزی سے بول رہا تھا اور وہ تھانیدار صاحب ڈر کے مارے بار بار مجھے سلیوٹ کرتے جارہے تھے۔حیرت انگیز محبت خیر ایک وہ وقت بھی تھا۔ایک یہ وقت آیا کہ پین کی پولیس کو ہم نے ایک اور روپ میں دیکھا اور سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے دلوں میں وہ تبدیلی پیدا کی ہو یہ ناممکن ہے کہ ایک حکومت کی پولیس اس طرح غیر معمولی طور پر محبت کا اظہار کرے۔جس وقت ہم وہاں پہنچے ہیں اس وقت سے لے کر آخر وقت تک پولیس کے افسران ہماری حفاظت کیلئے آگے بھی چل رہے تھے پیچھے بھی چل رہے تھے اور ایسا عجیب انتظام تھا کہ ایک ریاست سے جب دوسری میں جاتے تھے تو وہاں آگے پولیس کی کاریں کھڑی ہمارا