مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 79

مشعل راه جلد سوم 79 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی اندر حکومت میں انقلاب آیا اور پہلی دفعہ وہاں جمہوری حکومت قائم ہوئی جس نے مذہبی آزادی کا اعلان کر دیا۔ان حالات میں وہاں سپین کی بیت بنی۔لیکن جو لوگ صدیوں سے مذہبی تعصبات کا شکار ہوں وہ ایک یا دودن میں یا ایک یا دو سال میں تو نہیں بدل جایا کرتے۔چنانچہ جب ہم وہاں (بیت الذکر ) کے افتتاح کے لئے گئے تو ہمارے یورپین احمدی بڑے فکر مند تھے۔وہ کہتے تھے کہ حکومت نے اجازت تو دے دی ہے۔افتتاح بھی ہوگا۔لیکن اہل سپین کو ہم جانتے ہیں۔ہم یورپین ہیں ہمیں ان کے مزاج کا پتہ ہے۔وہ (دین حق) کے لئے اپنا دل نہیں کھول سکتے۔یہ ماہر انسانوں کی رائے تھی۔لیکن جب ہم وہاں گئے تو حیرت انگیز انقلاب دیکھا ہے۔اتنا عظیم الشان استقبال ہوا ہے احمدیت کا کہ آپ کے یعنی ان کے تصور میں بھی نہیں آ سکتا جو وہاں نہیں گئے۔ہر احمدی جو وہاں جاتا تھا خواہ وہ امریکہ سے آیا ہو یا انڈونیشیا سے یا جاپان سے یا کسی اور ملک سے۔اس کا چہرہ دیکھ کر پہچان لیتے تھے کہ یہ کس لئے آیا ہے۔اور بڑی خوشی سے اس سے ملتے تھے اور کہتے تھے کہ تم پید رو و آباد ماسکی تا (Mazquita) جانے کے لئے آئے ہو۔اور اس کے بعد وہ خوشی کا اظہار کرتے تھے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ جب ہمارے دوست سپینش بچوں کے پاس سے گزرتے تھے تو بچے محبت کے اظہار کے طور پر لا الہ الا اللہ پڑھنے لگ جاتے تھے۔لا الہ الا اللہ کی آواز بڑی پیاری ہے۔لیکن عیسائی مشرکین اور پھر رومن کیتھولک اور مشرکین پھر سپینش رومن کیتھولک بچوں کے منہ سے جب لا اله الا اللہ کی آواز آتی تھی تو ایسا سرور آتا تھا ، ایسا دل کھیل جاتا تھا نشے میں کہ اس کا کوئی تصور نہیں کر سکتا جس نے وہ آواز خود اپنے کانوں سے نہ سنی ہو۔ہم تھوڑی دیر کے لئے وہاں ساتھ کا گاؤں پید رو آباد ہے وہ دیکھنے کے لئے گئے۔چند منٹ کے لئے خیال تھا کہ نظر ڈال لیں وہ گاؤں کیسا ہے۔تو وہاں ایک میلہ سا لگا ہوا تھا۔جب ہم داخل ہوئے ہیں تو بہت سارے بچے جو زرق برق لباس میں ملبوس تھے انہوں نے ہمیں دیکھا اور سوال نہیں کیا۔انہیں تو ہماری زبان آتی نہیں تھی۔صرف ایک کلمہ لا الہ الا اللہ سیکھا ہوا تھا۔تو انہوں نے کہا لا الہ الا الله ؟ یعنی تم وہی ہو لا اله الا اللہ والے؟ ہم نے کہا ہاں لا الہ الا اللہ۔اس پر انہوں نے بڑی خوشی سے کہنا شروع کر دیا۔لا اله الا الله لا اله الا الله عجیب کیفیت تھی۔لیکن پیدر و آباد ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔اس کے ارد گرد کے ماحول میں معمولی سی تبدیلی آنا تو آپ سمجھتے ہوں گے کہ تعجب کی بات نہیں۔مگر سارے پین میں ، سارے اندلس میں یہ تبدیلی تھی۔اندلس کے ہر شعبہ زندگی میں یہ تبدیلی تھی۔سپین کی پولیس کسی زمانہ میں اپنی سختی میں مشہور تھی۔اور مجھے بھی اس کا تجربہ ہوا تھا کہ یہاں جیب