مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 3

مشعل راه جلد سوم 3 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تشہد وتعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔وَ سَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمواتُ وَالْأَرْضُ لا أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ لا الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَ الضَّرَّاءِ وَ الْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ۔اور پھر فرمایا:- (ال عمران آیات ۱۳۴ - ۳۵) جماعت احمدیہ پر مختلف ادوار ایسے آتے رہے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی آزمائشوں کا دور ہوتا تھا اور مخالفتوں کے ایسے ایسے خطر ناک زلزلوں اور ابتلاؤں میں سے جماعت گزرتی رہی کہ دشمن یہ سمجھتا تھا کہ یہ عمارت اب منہدم ہونے کو ہے۔چنانچہ وہ لوگ جن کے چھوٹے دل اور سطحی نظریں تھیں انہوں نے خوشیوں کے شادیانے بجانے شروع کر دیے اور یہ سمجھنے لگے کہ یہ چند دن کی بات ہے اس کے بعد دنیا میں جماعت کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔یہ خدا کا فضل و احسان ہے کہ ابتلاء کے ہر دور کے بعد جماعت نے پہلے سے مختلف نظارہ دیکھا۔دشمنوں کی جھوٹی خوشیاں پامال کی گئیں اور جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے نیا استحکام بخشا، نئی تمنت عطا فرمائی، نئے ولولے بخشے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے احباب جماعت کے دلوں میں نئی امنگیں ڈالی گئیں اور وہ نئی منزلوں کی طرف پہلے سے زیادہ تیز قدموں کے ساتھ روانہ ہوئے۔یہ ایک ایسی تقدیر ہے جو ہر دور میں اسی طرح ظاہر ہوئی ہے اور ہمیشہ اسی طرح ظاہر ہوتی رہے گی۔کوئی نہیں جو اس خدائی تقدیر کو بدل سکے۔۱۹۷۴ء کا زمانہ کوئی دور کا زمانہ نہیں۔آپ میں سے اکثر اس دور سے گزر کر یہاں پہنچے ہیں۔آپ گواہ ہیں کہ احمدیوں پر کیسے کیسے خطرناک وقت آتے رہے ہیں۔ایسے حالات میں اگر چہ ہمارے پیارے امام کا ہمیں یہی حکم تھا کہ مسکراتے چہروں کے ساتھ ان مصائب کو برداشت کر ولیکن حقیقت یہ ہے کہ چہرے