مشعل راہ جلد سوم — Page 64
مشعل راه جلد سوم 64 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی اس سرزمین میں یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ احمدی ماں کا بچہ گالی دے۔بعد میں پتہ چلتا ہے کہ مائیں خود بد زبان ہیں۔دراصل زہر کا یہی وہ چشمہ ہے جو بچوں کی بدقسمتی سے پھوٹا ہوتا ہے۔ماؤں کو خدا نے رحمت کا چشمہ بنایا تھا لیکن بعض مائیں اپنی اولاد کے لئے زہر کا چشمہ بن جاتی ہیں۔وہ دودھ پلانے کی بجائے بچوں کوسم پلاتی ہیں۔اپنے بچوں کو سم یعنی زہر پلاتی ہیں۔چنانچہ بیچارے ایسے ہی بچوں کی زبانیں خراب ہو جاتی ہیں۔میں آپ بچوں سے کہتا ہوں کہ بھول جائیں ایسی ماؤں کو۔اُن سے رحمت تو وصول کریں اگر وہ ملتی ہے۔لیکن روک دیں اس زہر کو جو وہ پلانا چاہتی ہیں۔یہاں ہے مقابلہ وقت کا۔اس معنے میں مقابلہ کہ اپنی ماؤں سے کہیں کہ آپ ہمارے سامنے گالی نہ دیں۔ہم آپ کے سامنے گالی نہیں دیں گے۔ہم کہیں بھی گالی نہیں دیتے۔اس لئے آپ بھی اپنی زبان کو پاک کریں۔نصیحت کا رخ آپ کی طرف سے ماؤں کی طرف چلنا چاہیے۔یہ بھی شکر کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔بچوں پر ماؤں کا اتنا احسان ہے کہ جب آپ ان کو نیک بات کہیں گے تو آپ ان کے احسان کا بدلہ ادا کر رہے ہوں گے۔کسی کو گالی نہ دیں پس ہر گز کسی کو گالی نہیں دینا۔زبان کو ہمیشہ پاک رکھنا ہے۔جب بھی منہ پر گالی آئے ، غصہ آئے تو تھوڑی دیر کے لئے رُک جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب غصہ سے مغلوب ہونے لگیں تو بیٹھ جایا کریں۔کھڑے ہونے کی حالت میں غصہ زیادہ تیزی دکھاتا ہے۔تبھی بیٹھا ہوا آدمی ہو یا لیٹا ہوا ہوا سے غصہ آئے تو فوراً لپک کر کھڑا ہو جاتا ہے۔تو غصہ کی حالت میں کھڑے ہونے سے ایک تعلق ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ایسی حالت میں بیٹھ جایا کرو، پانی پی لیا کرو، کچھ تھوڑی دیر برداشت کرو۔ایسی حالت میں سوچا کریں کہ ہم رُک رہے ہیں۔گالی دینے سے کیوں رک رہے ہیں۔یہ سوچا کریں کہ ہمارے اللہ میاں نے حکم دیا ہے کہ اپنے آپ کو صاف اور پاک رکھو، گندے کلمے نہ بولو۔اس لئے ہم اللہ کی خاطر یہ کر رہے ہیں۔جب آپ خدا کا نام ذہن میں رکھ کر اس کی خاطر کوئی کام کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ آپ پر بہت پیار کا اظہار فرمائے گا۔اول تو خود آپ کی ذات میں آپ کو ایک بدلہ مل گیا۔پاک زبان رکھنا اپنی ذات میں ایک نعمت ہے۔اس کا کوئی اور انعام نہ ہو یہ خود انعام ہے۔اس سے عظمت کردار عطا ہوتی ہے اور اگر اس کے بعد مفت میں کوئی اور بدلہ بھی مل رہا ہو تو پھر اور کیا چاہیے۔کہتے ہیں