مشعل راہ جلد سوم — Page 633
مشعل راه جلد سوم 633 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی ”میرے نزدیک سینیوں کے جھگڑوں کو چکا دینے کے لئے یہی ایک دلیل کافی ہے کہ صحابہ کرام میں باہم کسی قسم کی پھوٹ اور عداوت نہ تھی کیونکہ ان کی ترقیاں اور کامیابیاں اس امر پر دلالت کر رہی ہیں“۔وہ جو شیعہ کہ رہے ہیں کہ کوئی پھوٹ تھی یعنی حضرت علیؓ کے اختلافات تھے۔فرمایا اگر پھوٹ ہوتی تو یہ ترقیات ہو ہی نہیں سکتی تھیں۔جو عظیم ترقیات خصوصا خلفائے راشدین کے زمانے میں نصیب ہوئی ہیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان کا پھوٹ کا دعویٰ جھوٹا ہے۔پھوٹ ہو اور ترقیات ! یہ ہو ہی نہیں سکتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیسی پختہ اور عمدہ دلیل لائے ہیں کہ میرے نزدیک تو یہی ایک دلیل کافی ہے۔مگر ان کے لئے کافی ہے جو عقل رکھتے ہیں جو غور کرنے کی عادت رکھتے ہیں۔عامتہ الناس کے لئے پکی سے کی، بڑی سے بڑی دلیل بھی پیش کریں تو سمجھ کچھ نہیں آتی۔عامتہ الناس کیا ان عامتہ الناس کے علماء تو ان سے بھی زیادہ ناسمجھ ہیں۔دلیل کی بات ماننا تو ان کے نفس کی انا کے خلاف ہے۔جنہوں نے بے شمار انانیت کے بت سینوں میں سجائے ہوئے ہوں یہ ہو کیسے سکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کے منہ سے دلیل کی بات سن کر اپنا سرتسلیم خم کریں۔ناسمجھ مخالفوں نے کہا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا مگر میں کہتا ہوں یہ سی نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر بہن نکلی تھیں۔اب عام دلیل جو ہے وہ دلیل جو ہم سنتے آئے ہیں وہ نہیں دی جارہی۔ایک بالکل الگ دلیل ہے۔اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر بہت نکلی تھیں۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے جب دل کی نالیاں لبریز ہو گئیں اور بہت نکلیں تو اس سیلاب کو دنیا میں روک ہی کوئی نہیں سکتا تھا یہ مفہوم ہے۔یہ احمقانہ خیال ہے کہ پھر اس سیلاب کو کسی تلوار کی ضرورت ہے۔یہ اس اطاعت اور اتحاد کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے دوسرے دلوں کو تسخیر کر لیا“۔جب ایسی نالیاں بہت نکلیں، ایساFlood آ جائے جس کے نتیجے میں دل تسخیر ہور ہے ہوں تو تلوار کی کیا ضرورت ہے، تلوار کا موقع کیا ہے۔میرا تو یہ مذہب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں:۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ وہ تلوار جوان کو اٹھانی پڑی وہ صرف اپنی حفاظت کے لئے تھی۔ورنہ اگر تلوار نہ اٹھاتے تو یقیناوہ زبان ہی سے دنیا کو فتح کر لیتے۔