مشعل راہ جلد سوم — Page 631
مشعل راه جلد سوم 631 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ تک اطاعت نہ کی جاوے“۔جماعت کے سر پر خدا کا ہاتھ تب ہو گا جب وہ جماعت ہوگی اور جماعت ہو نہیں سکتی جب تک ایک شخص کی اطاعت نہ کی جائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں صحابہ بڑے بڑے اہل الرائے تھے“۔اب دیکھیں ان کی رائے کی کتنی طاقت تھی اور اس کو کس طرح مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے قوی دلائل سے ثابت کیا ہے۔یہ تو نہیں تھا کہ جو عرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سر تسلیم خم کر بیٹھے تھے اس وجہ سے تھے کہ نعوذ باللہ من ذالک بے وقوف تھے یا ان کی اپنی رائے کوئی نہیں تھی۔اس مضمون کو چھیڑتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔بڑے اہل الرائے تھے خدا نے ان کی بناوٹ ایسی ہی رکھی تھی وہ اصول سیاست سے بھی خوب واقف تھے کیونکہ آخر جب ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ کرام خلیفہ ہوئے اور ان میں سلطنت آئی تو انہوں نے جس خوبی اور انتظام کے ساتھ سلطنت کے بار گراں کو سنبھالا ہے اس سے بخوبی معلوم ہوسکتا ہے کہ ان میں اہل الرائے ہونے کی کیسی قابلیت تھی۔حضرت عمر فاروق ایک عظیم سیاستدان حضرت عمر کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لگتا ہے کوئی رائے ہی نہیں اگر کوئی رائے دیتے تھے تو بعض دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے اس کے اوپر غالب آکر یہ پھر ایک دم اپنی رائے کو مٹا دیا کرتے تھے مگر اطاعت کی روح تھی۔جب صائب الرائے بنے ، جب خدا تعالیٰ نے حکومت نصیب کی تو حضرت عمرؓ کے متعلق آج کے مفکرین بھی لکھتے ہیں کہ ایک بھی سیاسی غلطی نہیں کی آپ نے ، ساری زندگی حکومت کی ہے۔سیاسی پہلو سے اگر ہم دیکھیں، مذہبی نقطہ نگاہ کو چھوڑ دیں جو اختلاف کا نقطہ نگاہ ہے، تو بعض چوٹی کے مبصرین نے یہ لکھا ہے کہ عمر ایک ایسا خلیفہ ہے جس کے متعلق ہم پوری چھان بین کر لیں تو یہ بات قطعی ہے کہ سیاست میں کبھی انہوں نے غلطی نہیں کی۔ایک عظیم سیاستدان تھے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دیکھیں انہی خلفاء کے حوالے سے جو عام آدمیوں کی طرح چلتے پھرتے تھے فرما رہے ہیں یہ خیال مت کرو کہ وہ صائب الرائے نہیں تھے۔تم بھی صائب الرائے بنتے