مشعل راہ جلد سوم — Page 599
599 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایسے غور کرنے والوں کو خدا تعالیٰ کچھ نکات عطا فرماتا ہے۔اگر وہ متقی ہوں تو وہ فتنے کا موجب نہیں بنتے۔اگر وہ متقی نہ ہوں تو وہی نکات تردداور شک اور فتنوں کا موجب بن جایا کرتے ہیں اور یہ منازل بعد کی منازل ہیں۔لیکن آغاز میں وہ برتن تو حاصل کریں جن کو بھرنا ہے اور اکثر جگہ برتن موجود نہیں۔یہ مجھے فکر ہے جو اس سفر کے دوران پہلے سے بہت زیادہ بڑھ کر میرے سامنے ابھری ہے۔بھاری تعداد میں ایسے احمدی گھر ہیں جن کو روزانہ پانچ وقت نمازیں پڑھنے اور بچوں کو پڑھانے کی توفیق نہیں ملتی اور ایسے ہیں جن کو روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کی اور بچوں کو تلاوت قرآن کریم کروانے کی توفیق نہیں ملتی۔اب یہ لوگ ہیں جن کے گھروں میں آسمانی دودھ کے نازل ہونے کے لئے برتن بھی موجود نہیں۔اگر برتن نہیں ہوگا تو بارش کے دوران آپ چلو بھر پانی پی کر پیاس تو بجھا سکتے ہیں مگر جب بارش آ کے گزر جائے اور ہر طرف خشکی ہو تو آپ کے پاس کچھ بھی پیاس بجھانے کے لئے نہیں ہوگا۔پس نمازوں کا آغاز نمازوں کے برتن قائم کرنے سے ہوتا ہے۔تلاوت کا آغاز تلاوت کے برتن قائم کرنے سے ہوتا ہے اور برتن سے میری مراد یہ ہے کہ شروع کر دیں تلاوت، پھر رفتہ رفتہ علم بڑھائیں اور تلاوت کو معارف سے بھرنے کی کوشش کریں، معارف سے پہلے علم سے بھرنے کی کوشش ضرور کریں اور اگر آپ اس ترتیب کو سامنے رکھیں گے تو وہ جو لغزش میں نے بیان کی تھی اس سے کسی حد تک بچ سکتے ہیں۔عرفان سے پہلے عمل ہونا چاہیے اور بغیر علم کے جو عرفان ہے یہ خیالی عرفان ہے، اکثر ٹھوکروں والا عرفان ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے اُولُوا العِلم کہ کر متوجہ فرمایا کہ تم نے کچھ پوچھنا ہے تو اُولُوا العِلم سے پوچھا کرو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عرفان کا ذکر بعد میں فرمایا ہے علم کا ذکر پہلے فرمایا ہے۔يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ“ پہلے کتاب کی تعلیم دیتا ہے، حکمت یعنی عرفان کی باتیں بعد میں آتی ہیں۔تو وہ نوجوان جو بڑے ہوں یا چھوٹے ، اگر وہ قرآن کریم پڑھتے ہوئے اس کا علم نہیں رکھتے یعنی ظاہری معانی جو عربی زبان سے حاصل ہو سکتے ہیں اس پر توجہ نہیں کرتے تو ان کو مجلسیں لگا کر عرفان کی باتیں کرنے کا حق ہی کوئی نہیں۔وہ جاہل ہیں اور لوگوں کو بھی جہالت کی طرف بلانے والے ہیں۔وقتی طور پر اپنی بڑائیاں دکھاتے ہیں مگر حقیقت میں ان کو قرآن کریم کا علم ہی نہیں ہے۔تو علم کے حصول کے لئے پھر رفتہ رفتہ ترقی ہوتی ہے، بہت سی لغات کی کتب ہیں جن کو دیکھنا پڑتا ہے، بہت سے علماء سے استفادہ کرنا پڑتا ہے۔تو بنیادی طور پر پہلے علم کو بڑھائیں اور علم کو بڑھائیں گے تو علم کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ