مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 546 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 546

546 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم سمجھتا ہوں، جو جھوٹ میرے نزدیک شرک ہے وہ تو انسانی زندگی میں صرف خدام الاحمدیہ کی بات نہیں ساری انسانی زندگی میں اس طرح سرایت کر چکا ہے کہ بڑی بڑی عظیم اور شریف النفس قو میں بھی جو روز مرہ کی باتوں میں جھوٹ نہیں بولتیں ان کی زندگی کا کوئی نہ کوئی حصہ ضرور جھوٹ کا شکار ہو چکا ہوتا ہے اور اس پہلو سے توحید کل عالم میں پارہ پارہ ہوئی پڑی ہے۔اس توحید کو ہم نے دوبارہ قائم کرنا ہے۔اپنی ذات کے ہر پہلو سے جھوٹ کو نکال کے باہر پھینکنا ہے اور یہ جو جد و جہد ہے میں بار بار آپ سے گزارش کر چکا ہوں کہ مشکل ہے اتنا آسان کام نہیں ہے جتنا سننے سے معلوم ہوتا ہے۔صرف ایک دن اپنی زندگی کا ایسا بنا کے دیکھیں جس میں فیصلہ ہو کہ صبح سے رات تک نہ جھوٹ بولنا ہے نہ ایسی بات کرنی ہے جو سچائی کو دہرے رنگ میں پیش کرتی ہے۔اپنی اداؤں سے، اپنے کلام سے، اپنے روزمرہ کے سلوک سے، اپنے گھر میں، اپنے گھر سے باہر، آپ نے خدائے واحد کا نمونہ بن کر پھرنا ہے۔ایک دن منا کر دیکھیں اور رات کو بیٹھ کر حساب کریں مجھے لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ حساب تو روز مرہ انسان کو کرنا ہی چاہیے۔یہ یاد رکھیں کہ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَاب۔آپ حساب نہیں کریں گے تو اللہ تو ساتھ ساتھ حساب کر رہا ہے اور وہ حساب میں بہت تیز ہے۔تو کسی دن تو اپنا بہی کھاتہ کھولیں اور شام کے وقت ایسا دن منا کر جو تو حید کے لئے خالص ہو اپنا حساب کر کے دیکھیں۔پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ کس حد تک آپ موحد بن چکے ہیں اور کس حد تک ابھی شرک کی ملونی باقی ہے۔تو شرک کو جڑوں سے اکھیڑ پھینکنا یہ جماعت احمدیہ کا مقصد ہے اور اس صدی میں یہ مقصد جو ہم نے حاصل کرنا تھا۔اس میں ابھی صرف تین سال باقی ہیں اسی لئے گھبراہٹ اور بے چینی کے ساتھ میں بار بار آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگلی صدی کے لئے ایک ہی تحفہ ہے جو ہم آگے بھیج سکتے ہیں وہ تو حید کا تحفہ ہے۔اس صدی کے پرانے زنگ دور کریں۔جو غفلتیں ہیں ان کو ختم کریں۔جو بقیہ وقت ہے اس میں اپنے نفس کے محاسبہ میں زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں اور توحید کے قیام کے لئے جس حد تک کوشش ممکن ہے وہ کوشش کر دیکھیں اور ساتھ دعائیں کرتے رہیں کیونکہ دعاؤں کے بغیر ہماری کوئی کوشش بھی پھل نہیں لاسکتی۔اس تعلق میں یعنی مضمون تو جیسا کہ میں نے عرض کیا بہت وسیع ہے اور اس کے سارے پہلو ایک مجلس میں بیان نہیں ہو سکتے مگر بعض پہلو بھی کھل کر بیان نہیں ہو سکتے یا کھول کر بیان نہیں کئے جا سکتے۔اس سلسلے میں میں خطبات دے رہا ہوں۔گزشتہ ایک دو سال سے تقریباً ہر خطبے میں اس مضمون کو کسی نہ کسی طرح داخل کرتا ہوں اور اسی مضمون کے آگے سلسلے چلے ہیں جو درحقیقت سب تو حید ہی سے ملتے ہیں۔اگر آپ تو حید کو قائم کریں گے اور اپنی ذات میں قائم کریں گے تو آپ کے ہاتھ پر تو میں اکٹھی ہوں گی اور اس کے بغیر قومیں اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔اب آج