مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 487 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 487

487 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کو محرومی کا احساس ہو جو یہ سمجھتے ہوں کہ فلاں شخص کو تو ہم پر افسر چن لیا گیا ہے اور ہمیں کوئی عہدہ نہیں دیا گیا۔ان لوگوں کے دل میں ایک قسم کا حسد پایا جاتا ہے۔وہ اس بات پر خوش نہیں ہوتے کہ ہمارے اوپر کسی اور کو افسر بنادیا گیا ہے۔چنانچہ اس احساس محرومی کی وجہ سے وہ اپنا بدلہ تلخ کلامی کے ذریعہ لیتے ہیں اور یہ صورتحال بہت حد تک ایک مخفی شکل میں موجود رہتی ہے۔لیکن سطح پر اس وقت ابھرتی ہے جبکہ انتظامی معاملات میں بعض لوگوں کے خلاف بات سرزد ہوئی اور نظام جماعت کا یہ تقاضا ہے کہ امیر جماعت یا مرکز ، عہد یداروں کی وساطت سے ان معاملات کی تحقیق کریں جو مناسب معلوم نہیں ہوتے اور یہی عہد یداران تحقیق کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں۔پس خواہ وہ نیک مزاج ہوں یا ان کے اندر کسی قسم کی رعونت پائی جاتی ہو جب بھی وہ کسی معاملے کی تحقیق پر مقرر ہوتے ہیں تو اچانک ان کے خلاف بعض جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔اس وقت ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ اس کو آتا ہی کچھ نہیں۔بعض لوگ لکھتے ہیں کہ یہ کیسا عہدیدار ہے اس کو تو صحیح طور پر نماز بھی پڑھانی نہیں آتی ، فلاں کمزوری ہے۔لیکن کمزور یاں اس وقت یاد آتی ہیں جب وہ عہدیداران کے اوپر حکم عدل بن کر بیٹھتے ہیں یا تحقیق کی ذمہ داری ان کے سپرد کی جاتی ہے اور اس امر کو بعض لوگ پسند نہیں کرتے۔بعض خاندانوں میں بنیادی تربیت کی کمی پھر ایک اور وجہ اس کی یہ ہے کہ بہت سے ایسے خاندان ہیں جن میں بنیادی طور پر تربیت کی بہت کمی ہے۔ایسے خاندان ہیں جن میں لوگ آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں۔خواتین بھی ایک دوسرے سے لڑتی ہیں اور مرد بھی ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔یہاں تک کہ بعض خاندان ایسے ہیں جہاں مرد اور عورتیں مل کر غیبت کی مجالس لگاتے ہیں۔ہمارے ملک کی ایک لعنت ” شریکے بھی ہیں جہاں تک ”شریکوں“ کا تعلق ہے خاص طور پر پنجاب دنیا بھر میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔جیسے ”شریکئے“ پنجابی زمینداروں میں پائے جاتے ہیں دنیا بھر کے پردے پر کہیں دکھائی نہیں دیں گے۔بعض لوگ وہ شریکئے وہاں سے اٹھا کر یہاں لے آئے ہیں اور ان کی یہاں چاکیاں لگا رہے ہیں۔زمینداروں کو چا کی لگانی تو بڑی اچھی طرح آتی ہے لیکن جن کی یہ چاکیاں لگا رہے ہیں یہ عنتی پودے ہیں یہاں ان کی چاکیاں کیوں اٹھا کے لے آئے ہیں۔ان ملکوں میں آئے تھے تو اچھے اچھے پودوں کی خوبصورت پھولدار پودوں کی پھلدار پودوں کی چاکیاں اٹھا کر لاتے۔اس ملک کو بھی زینت بخشتے اور آپ بھی اس نیکی کا فیض پاتے۔وہاں کی بدیاں تو اس لائق تھیں کہ