مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 44

مشعل راه جلد سوم 44 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کیسے کریں؟ ہمیں دلائل یاد نہیں ، ہمیں ملکہ نہیں کہ مناظرہ کر سکیں ، ہمیں عربی نہیں آتی ، ہمیں استدلال کا طریق معلوم نہیں، میں سوچ رہا تھا کہ انہیں اس سے زیادہ اور کس چیز کی ضرورت ہے کہ وہ حضرت اقدس مسیح موعود کا کلام یا دکریں اور درویشوں کی طرح گاتے ہوئے قریہ قریہ پھر میں اور اسی کلام کی منادی کریں اور دنیا کو بتائیں کہ وہ آگیا ہے جس کے آنے کے ساتھ تمہاری نجات وابستہ ہے۔ایسا پر اثر کلام، ایسا پاکیزہ کلام ، ایسا حکمتوں پر مبنی کلام، خدا کی حمد کے گیت گا تا ہوا ایسا کلام جس کے متعلق بے اختیار یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ ؎ آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گایا ہم نے حقیقت یہ ہے کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود نے یہ شعر کہا ہوگا تو یقینا اور لازماً آسمان پر ملائکہ بھی آپ کے ہم آواز ہو کر یہ شعر گارہے ہوں گے اور وہ ساری حمد آپ کے پیچھے پڑھ رہے ہوں گے جو خدا کی حمد میں آپ نے اظہار محبت اور عشق کیا۔حقیقت یہ کہ ہے ( دین حق ) کی جان محبت ہے۔دین کی حقیقت عشق ہے۔وہ دین جو محبت اور عشق سے عاری ہے اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔نہ وہ زندہ رہنے کے لائق ہے ، نہ وہ زندہ رکھنے کے قابل ہے۔روح ہے زندگی کی اور ادیان کا فلسفہ اس بات میں مضمر ہے کہ خدا سے محبت کی جائے اور ایسی محبت کی جائے کہ دنیا کی ہر چیز پر وہ محبت غالب آ جائے۔کوئی وجو د اس سے زیادہ پیارا نہ رہے۔کوئی ساتھی اس سے زیادہ عزیز تر نہ ہو۔یہ محبت جب زندگی کے ہر دوسرے جذبے پر غالب آجاتی ہے تو اس وقت وہ لوگ پیدا ہوتے ہیں جنہیں خدا نما وجود کہا جاتا ہے۔یہی سب سے بڑا ہتھیار ہے جس سے دنیا کے قلوب فتح کئے جائیں گے۔یہی وہ ہتھیار ہے جس نے بہر حال غالب آنا ہے۔ہمارا پیغام محبت چنانچہ جب میں پین گیا تو ان لوگوں کے دل میں بھی کئی قسم کے توہمات تھے۔وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید ہمیں Moors کی طرح جنہوں نے پہلے فتح کیا تھا، دوبارہ کسی قوت کے زور سے، کسی ہوشیاری سے، کوئی سکیم بنا کر فتح کرنے کے ارادے ہیں۔اسی لئے میں نے اپنے پیغام میں اس بات کو خوب کھول دیا اور