مشعل راہ جلد سوم — Page 420
مشعل راه جلد سوم 420 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی جائے یا دوسرے بچوں سے اپنے آپ کو بالکل الگ شمار کرنے لگے اور اس کا طبعی رابطہ دوسرے بچوں سے منقطع ہو جائے۔کہانیوں سے ان کی تربیت کریں مثلاً بچے کہانیاں بھی پسند کرتے ہیں اور ایک عمر میں جا کر ان کو ناولز کے مطالعہ سے بھی دور نہیں رکھنا چاہیے۔لیکن بعض قسم کی لغو کہانیاں جو انسانی طبیعت پر گندے اور گہرے بداثرات چھوڑ جاتی ہیں ان سے ان کو بچانا چاہیے خواہ نمونے کے طور پر ایک آدھ کہانی انہیں پڑھا بھی دی جائے۔بعض بچے Detective) (Stories یعنی جاسوسی کہانیوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں لیکن اگر انہیں اسی قسم کی لغو جاسوسی کہانیاں پڑھائی جائیں جیسے آج کل پاکستان میں رائج ہیں اور بعض مصنف بچوں میں غیر معمولی شہرت اختیار کر چکے ہیں جاسوسی کہانیوں کے مصنف کے طور پر تو بجائے اس کے کہ ان کا ذہن تیز ہو۔ان کی استدلال کی طاقتیں صیقل ہو جائیں اور زیادہ پہلے سے بڑھ کر ان میں استدلال کی قوت چمکے وہ ایسے جاہلا نہ جاسوسی تصورات میں مبتلا ہو جائیں گے کہ جس کا نتیجہ عقل کے ماؤف ہونے کے سوا اور کچھ نہیں نکل سکتا۔شریک ہومز کو تمام دنیا میں جو غیر معمولی عظمت حاصل ہوئی ہے وہ بھی تو جاسوسی ناول لکھنے والا انسان تھا لیکن اس کی جاسوسی کہانیاں دنیا کی اتنی زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہیں کہ آج تک کسی دوسرے مصنف کی اس طرز کی کہانیاں دوسری زبانوں میں اس طرح ترجمہ نہیں کی گئیں۔جس طرح شیکسپیئر کے نام پر انگریز قوم کو فخر ہے۔اسی طرح اس جاسوسی ناول نگار کے نام پر بھی انگریز قوم فخر کرتی ہے۔یہ محض اس لئے ہے کہ اس کے استدلال میں معقولیت تھی اگر چہ کہا نیاں فرضی تھیں۔اس لئے اس قسم کی جاسوسی کہانیاں بچوں کو ضرور پڑھائی جائیں جن سے استدلال کی قو تیں تیز ہوں۔لیکن احمقانہ جاسوسی کہانیاں تو استدلال کی قوتوں کو پہلے سے تیز کرنے کی بجائے ماؤف کرتی ہیں۔اسی طرح ایک رواج ہندوستان میں اور پاکستان میں آجکل بہت بڑھ رہا ہے اور وہ بچوں کو دیو مالائی کہانیاں پڑھانے کا رواج ہے اور ہندوستان کی دیو مالائی کہانیوں میں اس قسم کے لغو تصورات بکثرت ملتے ہیں جو بچے کو بھوتوں اور جادو کا قائل کریں۔اس قسم کے تصورات اس کے دل میں جاگزیں کریں کہ گویا سانپ ایک عمر میں جا کر اس قابل ہو جاتا ہے کہ دنیا کے ہر جانور کا روپ دھار لے اور اسی طرح جادو گر نیاں اور ڈائنیں انسانی زندگی میں ایک گہرا کر دار ادا کرتی ہیں۔یہ سارے فرضی قصے اگر بڑا