مشعل راہ جلد سوم — Page 402
402 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم پھر ایک ایسا دور آیا جب بچے وقف کرنے شروع کئے گئے یعنی والدین نے اپنی اولا دکو خود وقف کرنا چاہا۔اس دور میں مختلف قسم کے واقفین ہمارے سامنے آئے ہیں۔بہت سے وہ ہیں جن کے متعلق والدین سمجھتے ہیں کہ جب ہم ان کو جماعت کے سپرد کریں گے تو وہ خود ہی انکی تربیت کریں گے اور اس عرصہ میں انہوں نے ان پر نظر نہیں رکھی۔پس جب وہ جامعہ احمدیہ میں پیش ہوتے ہیں تو بالکل ایسے Raw Material یعنی ایسے خام مال کے طور پر پیش ہوتے ہیں جس کے اندر مختلف قسم کی بعض ملاوٹیں بھی شامل ہو چکی ہوتی ہیں۔ان کو صاف کرنا ایک کارے دارد ہوا کرتا ہے۔ان کو وقف کی روح کے مطابق ڈھالنا بعض دفعه مشکل بلکہ محال ہو جایا کرتا ہے اور بعض بد عادتیں وہ ساتھ لیکر آتے ہیں۔جماعت تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ بعض لڑکوں کو جامعہ میں چوری کے نتیجہ میں وقف سے فارغ کیا گیا ہے۔کسی کو جھوٹ کے نتیجہ میں وقف سے فارغ کیا گیا ہے۔اب یہ باتیں ایسی ہیں کہ جن کے متعلق تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اچھے نیک صالح احمدی میں پائی جائیں، کجا یہ کہ وہ واقفین زندگی میں پائی جائیں۔لیکن معلوم یہی ہوتا ہے کہ والدین نے پیش تو کر دیا لیکن تربیت کی طرف توجہ نہ کی یا اتنی دیر کے بعد ان کو وقف کا خیال آیا کہ اس وقت تربیت کا وقت باقی نہیں رہا تھا۔بعض والدین سے تو یہ بھی پتہ چلا کہ انہوں نے اس وجہ سے بچہ وقف کیا تھا کہ عادتیں نہایت بگڑی ہوئی تھیں اور وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح تو ٹھیک نہیں ہوتا۔وقف کرد و تو خود ہی جماعت سنبھالے گی اور ٹھیک کرے گی۔جس طرح پرانے زمانے میں بعض دفعہ بگڑے ہوئے بچوں کے متعلق کہتے تھے۔اچھا ان کو تھانیدار بنوادیں گے۔تو جماعت میں چونکہ نیکی کی روح ہے اس لئے ان کو تھانیداری کا تو خیال نہیں آتا لیکن واقف زندگی بنانے کا خیال آجاتا ہے۔حالانکہ تھانیداری سے تو ایسے بچوں کا تعلق ہو سکتا ہے، وقف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔یہ لوگ بہت بعید کی بات سوچتے ہیں۔تھانیداری والا تو لطیفہ ہے لیکن یہ تو دردناک واقعہ ہے۔وہ تو ایک ہنسنے والی کہاوت کے طور پر مشہور ہے لیکن یہ تو زندگی کا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ خدا کے حضور پیش کرنے کیلئے آپ کو بس گندہ بچہ ہی نظر آیا ہے ناکارہ محض بچہ نظر آیا ہے جو ایسی گندی عادتیں لیکر پلا ہے کہ آپ اس کو ٹھیک نہیں کر سکتے۔اس لیے بچوں کی یہ جو تازہ کھیپ آنے والی ہے اس میں ہمارے پاس خدا کے فضل سے بہت سا وقت ہے۔اور اگر اب ہم انکی پرورش اور تربیت سے غافل رہے تو خدا کے حضور مجرم ٹھہریں گے اور پھر ہر گز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اتفاقاًیہ واقعات ہو گئے ہیں۔اسلئے والدین کو چاہیے کہ ان بچوں کے اوپر سب سے پہلے خود گہری نظر رکھیں اور جیسا کہ میں بیان کروں گا، بعض تربیتی امور کی طرف خصوصیت سے توجہ دیں اور