مشعل راہ جلد سوم — Page 368
مشعل راه جلد سوم 368 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی جائے گی۔پس سنت کی بنیاد تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ڈال دی تھی۔حضرت عمرؓ نے صرف ان مزدوروں کی خاطر جو بہت تھک جایا کرتے تھے اور صبح ان کے لئے اٹھنا ممکن نہیں ہوتا تھا ایسا کیا کہ صبح تہجد پڑھنے کی بجائے وہ پہلے ہی پڑھ لیا کریں۔اور بالعموم تراویح کی یہ رکعتیں اس زمانہ میں ہیں ہمیں تک بھی پڑھی جاتی تھیں جبکہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت عموما یہ ہے کہ آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے تھے۔پھر دو رکعتیں وتر کی اور پھر ایک رکعت ساری نماز کو وتر بنانے کے لئے پڑھتے تھے۔تو گویا گیارہ رکعتوں کی سنت بالعموم ثابت ہے اسی لئے جماعت احمدیہ میں بھی یہی طریق ہے۔بچوں کو بتائیں کہ تراویح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے قادیان میں ہمیں گیارہ رکعتیں ہی سکھائی جاتی تھیں اور رمضان کے علاوہ اس سے کم کا بھی ذکر ملتا ہے مثلاً چار نوافل اور پھر پہلے دور کعتیں اور پھر ایک وتر بنانے کی رکعت اس طرح چار نوافل اور دو اور ایک تین کل سات رکعتوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔پس بچوں کو اگر گیارہ رکعتیں پڑھنے کی توفیق نہیں تو یہ سات رکعتوں والے نوافل پڑھنے شروع کر دیں اور ان کو بتائیں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت تھی۔چنانچہ اس سے ان کے دل میں نوافل کے لئے دہری محبت پیدا ہوگی اور ذہن میں یہ بات جانشین ہو جائے گی کہ میں اس لئے پڑھ رہا ہوں کہ ہمارے آقا و مولا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس طرح پڑھا کرتے تھے۔تربیت کا یہ بہت ہی اچھا موقع ہے اگر بچوں کو اس طرح سکھایا جائے تو یہ ہرگز مشکل نہیں ہے ہے۔چنانچہ قادیان میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے تراویح کے وقت بھی بعض لوگ اس لئے اکٹھے ہوتے تھے کہ صبح نہیں اٹھ سکتے یا کسی لحاظ سے کوئی دقت تھی مگر کچھ لوگ اس لئے بھی اکٹھے ہوتے تھے کہ تراویح میں پورے قرآن کریم کا دور ہو جائے گا اور ہر روز ایک پارہ سے کچھ زائد سننے کا موقع ملے گا۔ان میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جو پھر تہجد کے لئے بھی اٹھتے تھے۔تو یہ تو اپنی اپنی توفیق کی بات ہے مصروفیات کی بھی بات ہے جس کو توفیق ملے اس کو تراویح کے لئے بھی لانا شروع کریں جہاں تراویح کا انتظام ہے۔اور جہاں تک اس ( بیت الذکر) کا تعلق ہے اس میں تراویح کا انتظام ہے مگر تراویح میں یہ جو خیال کیا جاتا ہے کہ ضروری ہے کہ روزانہ پورا ایک پارہ پڑھا جائے یا کچھ زائد تا کہ 29 دنوں میں ایک دفعہ پورے قرآن کریم کا دور مکمل کیا جا سکے۔اس قسم کا یہ خیال سختی کے ساتھ عمل کرنے والا خیال نہیں ہے کہ اس کے بغیر تراویح نہیں ہو