مشعل راہ جلد سوم — Page 337
337 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم خدا قانون کا مرجع اور منبع ہے اس لئے جب خدا کسی کو حکم دیتا ہے تو وہ اور مسئلہ بن جاتا ہے لیکن جہاں تک مرنے والے کا تعلق ہے اور جہاں تک دیکھنے والے کا تعلق ہے ، وہ قتل ہی کہلائے گا۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہی اعتراض کیا کہ تم نے کسی کو ناحق کیوں مار دیا حالانکہ وہ خدا کے نبی تھے لیکن دیکھنے والے کے نقطہ نگاہ سے ان کا اعتراض درست تھا۔پس جہاں تک معاشرے کا تعلق ہے جو شخص بھی اپنے مقام اور مرتبے سے ہٹ کر بات کرتا ہے اپنے دائرے سے نکل کر بات کرتا ہے ساری جماعت کو اس بات کا حق ہے اس پر فرض ہے کہ اس کو متوجہ کرے اور کہے کہ جہاں تک قرآنی تعلیم کا تعلق ہے ہمارے نزدیک تم مفسد ہو اور ہم تمہارا یہ دعویٰ قبول نہیں کریں گے کہ تم نے اصلاح کی خاطر یہ بات کی تھی۔یہ دعویٰ تم جانو اور خدا جانے ہمیں اس سے غرض نہیں لیکن جو کام تم کر رہے ہو اس کے نتیجہ میں جماعت میں فتنہ وفساد پیدا ہوگا۔سنی سنائی باتوں پر یقین کر لینے کے نقصانات پھر انفردی طور پر بعض لوگ فحشاء پھیلانے والے ہوتے ہیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے ہیں کہ فلاں بدکردار ہے فلاں بدکردار ہے اور ظلم کی بات یہ ہے کہ لوگ ان کی باتوں کو سن لیتے ہیں۔سوائے ایک صورت کے اور کسی صورت میں یہ بات سننا جائز نہیں ہے۔اس موقع پر سننے والے کا منہ بند کرنا ضروری ہے اور یہ کہنا ضروری ہے کہ قرآن کریم نے اس بات کی تمہیں اجازت نہیں دی۔ہر آدمی اور قرآنی اصطلاح میں تم جھوٹے ہو کیونکہ تم غلط جگہ بات کر رہے ہو اور جو بات کر رہے ہو اس کے گواہ تمہارے پاس نہیں اگر گواہ ہیں تو پھر بھی ہمارے پاس بات نہ کرو۔پھر بھی تمہیں چاہیے کہ نظام جماعت کے پاس جاؤ جولوگ اس بات پر مقرر ہیں ان سے بات کرو۔یہ بات سننا کسی کے لئے جائز ہی نہیں ہے کیونکہ اسی سے آگے فحشاء پھیلتی ہیں سوائے ایک صورت کے کہ وہ ایک مریض کے متعلق نظام جماعت کو مطلع کرنے کی خاطر اس کی بات سنتا ہے تا کہ نظام جماعت کو معلوم ہو جائے کہ ایک بیماری کا گڑھ ہے جو وائرس کا شکار ہے اور جگہ جگہ پھر رہا ہے اور اس وائرس کو پھیلا رہا ہے جس طرح بعض مریض ہیں بیماریاں پھیلاتے ہیں ان کے متعلق بر وقت اطلاع کر دی جاتی ہے بعض کتے پھر رہے ہوتے ہیں باولے ان کے کاٹنے سے پاگل پن ہو جاتا ہے جن کو کاٹتے ہیں وہ پاگل ہو جاتے ہیں ان کے متعلق اطلاع کرنا تو فرض ہے اس لئے اگر کوئی اطلاع کی خاطر کسی بات کو غور سے سنے اور اچھی طرح ذہن نشین کر لے تا کہ اس کی طرف غلط بات منسوب نہ کرے پھر وہ بات