مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 336

336 مشعل راه جلد سوم ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی وَلَكِنْ لا يَشْعُرُونَ (سورۃ البقرہ:۱۳) خبر دار! وہ خود مفسد ہیں اور ان کو علم نہیں ہے۔اس میں بظاہر کوئی دلیل نہیں ہے۔انہوں نے کہا ہم اصلاح کرتے ہیں انہوں نے کہا نہیں تم مفسد ہو۔کس دلیل سے ان کو مفسد قرار دیا جا سکتا ہے وہ وہی دلیل ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے جس کی میں نے آغاز میں تلاوت کی تھی۔ایک شخص جب اپنے منصب سے ہٹ کر باتیں کرتا ہے تو خواہ وہ اصلاح کی باتیں ہوں وہ ضرور مفسد ہے کیونکہ قرآن کریم نے فساد کی تعریف ہی منصب سے ہٹنا قرار دی ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے تفاوت عربی زبان کے مطابق ان دو چیزوں کے ٹکراؤ کا نام ہے جو اپنے منصب سے الگ ہو چکی ہیں اپنے مقام کو چھوڑ کر فوت ہو چکی ہیں۔پس جس شخص نے کوئی اصلاح کی بات کی ہو اور اصلاح کی بات کرنے کا اس کا مقام ہی نہ ہو۔کبھی وہ قضاء میں دخل دے رہا ہے کبھی امور عامہ میں داخل دے رہا ہے کبھی تعلیم میں دخل دے رہا ہے نہ اس کو ناظر امور عامہ مقرر کیا گیا نہ قاضی مقرر کیا گیا اور نہ اور عہدے دیئے گئے اپنے محلہ کا سیکرٹری بھی نہیں ہے اگر سیکرٹری بھی ہے تو اس کا کام ہے مجلس عاملہ میں بات کرنا یا اوپر کے عہدے دار کو متنبہ کر نایا عوام الناس میں بغیر کسی کی ذات پر حملے کئے عمومی نصیحت کرنا۔ان چیزوں پر اگر کوئی قائم رہتا ہے تو فساد پیدا کر ہی نہیں سکتا اس لئے اگر وہ کہتا ہے کہ میں مصلح ہوں تو بے شک مصلح کا دعویٰ کرتا پھرے اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں قرآن کریم اس کو اجازت دیتا ہے لیکن اصلاح کی بات کر رہا ہو خواہ بچی بھی ہو لیکن منصب سے ہٹ کر کر رہا ہے تو وہ لازما مفسد ہے اور بہت سے مفسدا ایسے ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ بعض دفعہ وہ عمداً مجرم نہیں ہوتے وَلَكِن لَّا يَشْعُرُونَ ان بیچاروں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اس لئے دونوں قسم کے لوگ نظام کو بہر حال نقصان پہنچا دیتے ہیں عمداً مفسد ہوں گے تو خدا کے ہاں مزید سزا پائیں گے اور بغیر عمد کے مفسد ہوں گے تو نظام کو تو بہر حال نقصان پہنچائیں گے۔ان کو اس درجہ کی سزا ملے یا نہ ملے جو باشعور جرم کرنے والے کو ملتی ہے یہ الگ مسئلہ ہے۔اس لئے لَا يَشْعُرُونَ والے پہلو کے تابع جب ان کے اوپر پکڑ کی جاتی ہے تو کئی لوگ مجھے لکھتے ہیں ہم نے جان بوجھ کر نہیں کیں ہم نیک دلی سے یہ کرنے والے تھے ان کو میرا یہی جواب ہے کہ تم چاہو نیک دلی سے کسی کو قتل کرو یا بد دلی سے قتل کر وہ تو مارا گیا جس کو قتل کر دیا گیا یہ فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے تم نے بدنیتی سے اس کو مارا تھا یا نیک نیتی سے مارا تھا جیسا کہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا کہ تم نے کیوں مار دیا انہوں نے بتایا کہ مارا تو ہے لیکن نیک نیتی سے مارا ہے کیونکہ خدا کا حکم تھا۔بعض دفعہ ایسی باتیں بھی ہو جاتی ہیں کہ کسی کے قتل کا کسی کی موت کا قانون فیصلہ کر دیتا ہے اور چونکہ