مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 332

مشعل راه جلد سوم 332 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ نظام جماعت پر تم ضرور ظلم کر رہی ہو اس لئے تم قاضی کے پاس رجوع کرو یا امور عامہ کے پاس جاؤ کیونکہ ابتدائی معاملے شعبہ امور عامہ طے کیا کرتا ہے یا اگر وہ طے نہیں کرتا تو اصلاح وارشاد کے پاس جاؤ یا امیر کے پاس پہنچو ، ان کو کہو کہ تم میرے باپ کی جگہ ہو، تم سارے نظام کے امیر مقرر کئے گئے ہو، تمہارے دائرہ میں ایک واقعہ ہورہا ہے، تحقیقات کرواؤ۔اسے سمجھانے کی کوشش کرو۔اگر نہیں سمجھتا تو پھر ہمیں بتاؤ کہ ہمیں کیسی کا رروائی کرنی چاہیے تا کہ معاملہ نہی ہو سکے۔لجنہ کی عہدیداروں کو یہ بھی خیال نہیں آتا کہ قرآن کریم جو بار بار وہ پڑھتی ہیں اور عہدیداروں میں سے اکثر ترجمہ بھی جانتی ہیں اس میں لکھا ہوا ہے کہ جب بھی جھگڑے ہوں تو فَابْعَثُوا حِكَمَا مِنْ أَهْلِهِ وَ حكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا (النساء:36) دو فریق مقرر ہوں ایک مرد کے اہل سے اور ایک عورت کے اہل سے۔جو حکم مقرر ہوں ان میں فیصلہ کرنے کی طاقت ہو۔خدا تعالیٰ نے ان کو حکمت عطا کی ہو ایسے آدمی چنو جو وہ آپس میں مل بیٹھیں اور معاملے طے کریں۔اگر وہ طے نہیں ہو سکتے تو پھر ہ شخص کے لئے قضاء کا رستہ کھلا ہے۔یہ سب کچھ کرنے کی بجائے ان باتوں میں اس قدر چسکا اٹھایا گیا کہ سارا نظام درہم برہم ہو گیا ، اجلاس ملتوی ہو گئے ، اس لڑکی کے ارد گرد گھیرے پڑ گئے اور سارے اکٹھے ہو گئے جلسہ کی تقریریں سننے کی بجائے محفل لگی اور باتیں شروع ہو گئیں کہ بڑا ظلم ہو گیا، بڑا اندھیر ہو گیا۔فلاں نے یہ کر دیا فلاں نے وہ کر دیا۔اور پھر اس لڑکی نے اپنی زبان درازیوں اور طعن میں خلیفہ وقت کو بھی نہیں چھوڑا اس نے پھر اور بھی درد ناک باتیں کیں کہ میرے والدین سے یک طرفہ باتیں سن کر خلفیہ وقت نے بائیکاٹ کر دیا ہے ان کی طرف (یعنی خاوند کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کے ارد گرد دو تین حاشی مواشی ایسے ہیں جو یک طرفہ باتیں اس کے کانوں میں ڈالتے ہیں۔اس وقت بھی کسی کو خدا کا خوف نہیں آیا کہ اب حملہ ایسی جگہ کیا جارہا ہے جہاں حد سے زیادہ تصادم ہے جیسے دنیا نے سماء الدنیا پر حملہ کر دیا ہے اس قسم کا واقعہ ہے یا اس سے بڑھ کر نوعیت کا ہے اور کسی کو خیال نہیں آتا۔دو قسم کے مزاج کے لوگ ایک ہی بات کرتے ہیں اس کے نتیجہ میں اس کا منہ پھر بھی بند نہیں کروایا جا تا یعنی میرا مطلب ہے محبت اور پیار سے سمجھا کر سختی سے مراد نہیں ہے اس کو یہ نہیں کہتے کہ پہلے تم اپنے خاوند کے خلاف یک طرفہ باتیں کر رہی تھی اب تم خلیفہ وقت کے خلاف یکطرفہ باتیں کر رہی ہو۔تمہارے خاوند کو تو ہم نہیں جانتیں لیکن خلفیہ وقت کے ہاتھ پر ہم نے منصف سمجھ کر بیعت کی ہوئی ہے۔یہ ایمان رکھتے ہوئے بیعت کی ہے کہ وہ خود منصف نہیں بلکہ دنیا میں انصاف کا محافظ ہے تم ایسے شخص کے اوپر عدل کے خلاف الزام لگا رہی ہو اس لئے اگر پہلے تمہاری باتیں سن بھی لی تھیں ، ناجائز چسکے