مشعل راہ جلد سوم — Page 309
مشعل راه جلد سوم 309 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی جیتنے کا دعویٰ کرنے والے لوگ ہیں۔اس قسم کے لوگ نہیں ہیں جو معصوم انسانوں کی جانوں سے کھیل کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کا دعوی کرتے ہیں، Terrorism کی تعلیم دیتے ہیں۔چنانچہ بڑی لمبی تحقیق انہوں نے کی جہاں جہاں احمدیت پہلے سے پوری طرح جاگزیں ہو چکی تھی۔اپنی جگہیں بنا چکی تھی۔اُن ممالک سے انہوں نے رابطے کئے اور آخر یہ تسلیم کیا کہ اگر احمدیت کو وہاں رجسٹر ہونے کی اجازت دی جائے تو اُن کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔پس جماعت احمدیہ جس دین کو پیش کرنا چاہتی ہے وہ قدیم ترین بھی ہے اور جدید ترین بھی۔قدیم ترین اس لئے کہ وہ دین حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے وہ حسین چہرہ ہمارے دین کا جو لوگوں کو فریفتہ کر لیتا ہے۔جو دشمنوں کو بھی عاشق بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔جو انسانی طاقتوں کو رفتہ رفتہ اس طرح جلا بخشتا چلا جاتا ہے۔کہ انسان خواہ دنیا کے لحاظ سے کتنا ہی اعلیٰ اخلاقی مقام پر بھی فائز ہو دین کی برکت سے اُسے نئی رفعتیں عطا ہوتی ہیں۔یہ وہ دعوی ہے جو لے کر ہم ان ممالک میں آئے ہیں۔اور اس دعوی کو اپنے اعمال سے سچا ثابت کرنا ہمارا کام ہے۔یورپین قوموں کی ذہانت اگر ہم یہ دعوی زبانی پیش کرتے رہے۔تو یہ خیال مت کریں کہ یہ تو میں اس زبانی دعوی سے دھو کہ کھا جائیں گی۔یہ بڑے ذہین لوگ ہیں۔دنیا کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔لمبی علمی جستجو کے ذریعہ مشاہداتی دنیا میں اپنے نظریات کو بار بار پر کھنے کے بعد ان میں خدا تعالیٰ نے اس فطری ملکہ کو بہت جلا بخش دی ہے جو انسان کو عطا ہوتی ہے۔لیکن بعض لوگ اسے بار بار استعمال کر کے اور اس میں مزید بہتری کے نقوش پیدا کرتے ہوئے اسے ایک بلند مقام تک پہنچا دیتے ہیں اور وہ فطری ملکہ ہے کسی دعویدار کے دعوئی کو پرکھنا۔کسی دعویدار کے دعوی کی پہچان کرنا۔قوموں میں لمبے تجربہ کی وجہ سے یہ ملکہ خود چمک اٹھتا ہے۔یہ قو میں لمبے عرصہ سے تاجر قوموں کے طور پر دنیا کے سامنے ظاہر ہوئیں۔اور تجارت کی قوت کے ساتھ انہوں نے تمام دنیا میں نفوذ حاصل کیا اور عروج حاصل کیا۔اس لئے ان کے اندر پہچان کا ملکہ خاص ترقی پاچکا ہے۔ہر ہے چیز کو پرکھ کر جان کر یہ معلوم کرنے کے عادی ہو چکے ہیں کہ دعوی سچا بھی ہے کہ نہیں۔اور یہ چیز مفید بھی - کہ نہیں۔پس ان کے سامنے بھی اپنے دین کو پیش کرنا یعنی اس دین کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حسین دلکش مذہب تھا۔دو طرح سے ہمارے لئے بہت ہی مشکل امر ہے۔اول یہ کہ ہمارے دین کی پہلی