مشعل راہ جلد سوم — Page 281
مشعل راه جلد سوم سے چمٹ جائیں۔281 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی عالمی تو حید کے لئے عالمی تمدن کے امتزاج کا ہونا ضروری ہے عالمی توحید کو پیدا کرنے کے لئے عالمی تمدن کے امتزاج کا ہونا بڑا ضروری ہے۔اس کی طرف جماعتوں کو خصوصیت کے ساتھ توجہ دینی چاہیے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایسے گروہ ایسے چیدہ چیدہ صائب الرائے لوگوں کو اکٹھا کر کے ان کی مجالس قائم کرنی چاہئیں۔خواہ وہ لوگ مجلس عاملہ میں سے چنے جائیں یا باہر سے اختیار کئے جائیں جن کے سپرد یہ کام ہو۔اگر وہ باہر سے ہیں تو ان کی رپورٹیں مجلس عاملہ میں پیش ہوں۔اگر وہ لوگ مجلس عاملہ کے ممبر ہیں تب بھی ان کی رپورٹیں مجلس عاملہ میں پیش ہوا کریں اور ملکی طور پر جو کچھ بھی لائحہ عمل تجویز ہو وہ مجھے بھجوا دیا جایا کرے تاکہ میں ایک نظر ڈال لوں۔ایک تو مجھے اس کے نتیجہ میں علم ہوتا رہے گا کہ کونسا ملک بیدار مغزی سے کام کر رہا ہے۔اور جو ملک غافل ہوں گے ان کو میں متوجہ کرسکوں گا۔دوسرے ان حقائق کی روشنی میں جو انہوں نے جمع کئے ہوں گے میں ان کے لئے مزید راہنمائی کا موجب بن سکوں گا۔اس لئے ساری جماعتیں ان مسائل پر غور کریں اور اپنی رپورٹیں مجھے بھوانی شروع کریں۔انشاء اللہ تعالیٰ اس کے نتیجہ میں ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ چونکہ ساری رپورٹیں دنیا بھر سے آ رہی ہوں گی اس لئے دینی تمدن کی وہ توحید جو قرآن اور سنت کی روشنی میں میں قائم کرنا چاہتا ہوں وہ ساری دنیا کی رپورٹیں یکجائی طور پر نظر میں آنے کے نتیجہ میں زیادہ آسانی سے کر سکوں گا۔یورپ میں بسنے والے نوجوانوں کی تربیت کا مسئلہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو پاکستانی احمدی باہر گئے ہوئے ہیں ان کی تربیت کرنا اور ان کو ابتدائی تعلیم کے لئے استعمال کرنا یہ بہت ہی اہم کام ہے اس کی اہمیت خاص طور پر جرمنی میں میرے سامنے آئی۔جب میں ملاقاتیں کرتا رہا ہوں یا گفت و شنید کرتارہا ہوں تو صرف حال احوال پوچھنا مقصد نہیں ہوتا کہ انہوں نے میرا حال پوچھ لیا اور میں نے ان کا حال پوچھ لیا۔میں ان کے تمدنی حالات پوچھتا رہا ہوں اور در پیش مسائل پوچھتا رہا ہوں۔دینی حالت کے متعلق کچھ تو شکلیں بتا دیتی تھیں اور کچھ سوالات کے بعد چیزیں سامنے آجاتی تھیں۔ایک افسوسناک چیز جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ نو جوانوں میں جہاں اخلاص کا معیار بلند ہے وہاں علم کا معیار بہت کم ہے۔بعض صورتوں میں تو بعض احمدی نوجوانوں کو نماز کا ترجمہ نہیں آتا تھا۔وہ گھر