مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 272

حق) پر 272 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم میرے سے ذلیل سلوک کیا گیا ہے مجھے پوچھا نہیں گیا اور رفتہ رفتہ وہ بددل ہو کر باہر چلا جاتا ہے۔انگلستان میں مجھے کئی انگریز اسی طرح ملے۔جب میں شروع شروع میں یہاں آیا ہوں مجھ سے جب باتیں ہوئیں اس موضوع پر کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ باہر نکل گئے۔آئے اور باہر نکل گئے۔کہنے لگے کہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ (دین مطمئن نہیں تھے۔بڑی سنجیدگی سے انہوں نے ( دین حق ) قبول کیا۔مطمئن تھے، قربانیاں دیں مگر ہمارے انگلستان کے احمدی معاشرے نے جو غیر ملکوں سے آیا تھا اس نے ایک طرف سے بلایا اور دوسری طرف سے دھکے دے دے کر نکال دیا بدسلوکی کی وجہ سے۔اور بعض دفعہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بدسلو کی عمد انہیں ہوتی۔ایک آدمی کو پتہ ہی نہیں لگتا کہ میں بد اخلاقی کر رہا ہوں لیکن عملاً بد اخلاقی کر رہا ہوتا ہے۔اگر آپ فرض کریں کہ آپ افغانستان جائیں اور افغانستان میں کوئی مذہب ان کا ہو جو وہ آپ کو قبول کرنے پر آمادہ کر لیں اور اس کے بعد جب آپ جائیں وہ آپس میں پشتو بولنا شروع کر دیں اور آپ کو ایک طرف چھوڑ دیں تو کیا اثر آپ کے اوپر پڑے گا۔بہت سی جرمن خواتین بھی ایسی ہیں جن کے ساتھ یہ بدسلوکی ہوئی۔وہ خواتین میں آتی ہیں اور پاکستانی خواتین آپس میں باتیں شروع کر دیتی ہیں وہ بیچاری ایک طرف بیٹھی رہتی ہیں کوئی ان سے پوچھتا نہیں کہ آئے تشریف رکھیے بیٹھیں آپ کے مسائل کیا ہیں ہم کس طرح خدمت کر سکتی ہیں۔ان کے گرد حلقہ بنانا چاہیے ان کو محسوس ہونا چاہیے کہ ہم مرکز ہیں یہاں۔کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپ نے محبت میں پہل کرنی ہے ورنہ آپ محبوب نہیں بنیں گے اس قوم کے۔عشق اول در دلِ معشوق پیدا می شود " کا یہ مطلب ہے۔آپ کو وارفتگی کا اظہار کرنا چاہیے ان سے ( دین حق) کی خاطر جھکنا چاہیے اُن کے سامنے۔جی آیاں نوں کی آواز میں دینی چاہئیں سر آنکھوں پر بٹھانا چاہیے ہر طرح عزت اور احترام اور پیار کا سلوک کرنا چاہیے اگر آپ یہ کریں گے تو آپ سے دس گنا بڑھ کر یہ ( دین حق) کی خدمت کی اہلیت رکھتے ہیں میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں۔اس قوم میں بڑی ہمتیں ہیں بڑی خداداد صلاحیتیں ہیں بڑی محنت کی عادت ہے۔بہت سنجیدہ ہیں اپنے مقاصد میں۔اس لئے آپ ( دین حق ) کی خاطر ایک عظیم الشان قوم کے دل فتح کر نیوالے ہوں گے۔اگر آپ یہ چھوٹی چھوٹی قربانیاں کریں لیکن بسا اوقات ان کی طرف کوئی توجہ نہیں باہر سے ہم یہاں آتے ہیں اکثر ایسے معاشرے سے آرہے ہیں جہاں اقتصادی معیار یہاں سے بہت تھوڑا ہے جہاں دیگر پابندیاں بہت ہیں۔یہاں اقتصادی معیار بلند ہو جاتا ہے پابندیاں اٹھ جاتی ہیں نگر ان آنکھیں ہٹ جاتی ہیں والدین اس ملک میں بیٹھے ہیں کوئی دیکھنے والا نہیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔صرف یہ بات بھول جاتے ہیں کہ خداد یکھنے والا ہے اور نتیجہ یہ