مشعل راہ جلد سوم — Page 256
مشعل راه جلد سوم 256 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی طمانیت بخش ذکر الہی قرآن کریم الا بذکر الله تطمئن القلوب میں جس ذکر کا ذکر فرما رہا ہے وہ ذکر آ کر ٹھہر جانے والا ذکر ہے جو زندگی کا حصہ بن جائے۔خدا دل میں داخل ہو اور ٹھہر جائے وہاں سکینت اختیار کر لے۔وہی ذکر ہے جس کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ وہ پھر طمانیت بخشے گا اور ساری زندگی مطمئن ہو جائے گا۔وہیں سے ( دین حق ) کا آغاز ہوتا ہے۔جن دلوں میں خدا تعالیٰ اس طرح داخل ہو جائے کہ ذکر خدا کی ذات کے ساتھ وابستہ ہو خدا ذکر کے ساتھ ہمیشہ وابستہ ہو اور انسانی وجود کا حصہ بن جائے۔یعنی ( خدا تو حصہ نہیں بن سکتا مگر اس کی یاد تو انسانی وجود کا حصہ بن جائے ) ایسا شخص امن میں آجاتا ہے اور ایسے شخص کا ماحول بھی پر امن ہونے لگتا ہے۔ایسا شخص جس کے ساتھ اللہ رہے یہ ممکن نہیں کہ وہ شخص دنیا میں بدامنی پھیلانے والا ہو۔یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کا گھر بے سکون رہے وہ لازماً اپنے تعلقات میں ایک ایسی نئی بات خدا والی بات داخل کر لیتا ہے کہ جس طرح بندہ اپنے خدا سے محفوظ ہے خدا کے بندے اس سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔پس جب میں کہتا ہوں کہ آپ ( دین حق ) کا نام لے کر جب دنیا میں ( دین حق) کی فتح کی باتیں کرتے ہیں تو اس کا آغاز اپنے نفس سے کریں تو قرآن کے بیان کے مطابق میں آپ کو یہ گر بھی بتا تا ہوں کہ یہ آغاز کیسے ہوسکتا ہے۔خدا کی باتوں سے یا بلند نعروں سے یہ بات حاصل نہیں ہوسکتی۔نعرہ ہائے تکبیر آپ فلک شگاف بھی لگائیں تب بھی وہ اندرونی طمانیت آپ حاصل نہیں کر سکتے جو خدا سے بچے تعلق کے نتیجے میں خدا کے خود بخود یاد آتے رہنے کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔ہر حالت میں خدایا در ہے پس جب خدا فرماتا ہے الا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب تو مراد یہ ہے کہ تم خدا کے اس رنگ میں ہو جاؤ کہ خدا سے تمہیں پیار پیدا ہو جائے اللہ کے ذکر میں لطف آنے لگے، وہ روز مرہ کی زندگی میں داخل ہو جائے، اُٹھتے بیٹھتے ہوتے جاگتے ، مصیبت ہو یا امن ہو تمہیں ضرورت ہو یا دین کو تمہاری ضرورت ہو ہر حالت میں خدا یاد رہے اور اس کے ساتھ ایک دائمی تعلق اور پیار پیدا ہو جائے۔یہ جب پیدا ہوتو یہ راز چھپا نہیں رہا کرتا۔یہ ایسی بات نہیں جسے آپ دل میں سمیٹ کے دنیا کی نظر سے بچا کر رکھ سکیں پھر تو اس کی خوشبو اٹھتی ہی اُٹھتی ہے پھر تو اس کے رنگ ضرور دکھائی دینے لگتے ہیں۔