مشعل راہ جلد سوم — Page 223
223 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم میں آنے کا اس سے کوئی تعلق نہیں البتہ اس کا ایک پہلو ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے تعلق ہے۔مشرق اور مغرب کے سفر کی جو تمثیل ہے وہ اور رنگ میں پوری ہوئی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ خدا نے دنیا کو دورشتوں میں تقسیم کر رکھا تھا اور مغرب اور مشرق کے درمیان تقدیر الہی کی ایک دیوار حائل تھی۔مشرق کو یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ موجزنی کرتے ہوئے مغرب پر حاوی ہو جائے یا مغرب موجزنی کرتے ہوئے مشرق پر حاوی ہو جائے۔حیرت انگیز ہے قرآن کریم کا یہ کلام جو گزشتہ ساری تاریخ میں پورا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔چنانچہ مشرق کی موجیں چلتی تھیں تو کبھی وہی آنا سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی تھیں اور کبھی سپین تک پہنچتیں اور واپس آگئیں آگے بڑھ کر ان کو مغربی دنیا میں داخل ہونے کی توفیق نہیں ملی۔مورخین یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور ان کو وجہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیا بات ہے کہ مشرق سے ایک روچلتی ہے اور مغرب سے ٹکرا کر واپس آجاتی ہے اور اسے مغرب میں داخل ہونے کی توفیق نہیں ملتی حالانکہ اس وقت مشرق طاقتور تھا۔مشرق کو مغرب کی حفاظت کا ذریعہ بنایا گیا تھا کیونکہ خدا کی تقدیر نے مغرب کو اٹھانا تھا اور دجال نے وہاں سے پیدا ہونا تھا۔پھر دجال کو روکنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مدد مانگی جانی تھی۔آپ نے روحانی طور پر وہ انتظام فرمانے تھے جس کے نتیجہ میں دجال کے بداثرات سے قوموں کو بچایا جانا تھا۔پس یہ تو تفسیر کا ایک پہلو ہے اس کے بعض پہلو بہت وسیع ہیں اور مختلف زبانوں میں ان کے مختلف حصے پورے ہوتے رہتے ہیں۔محبت کے نتیجہ میں مبالغہ آمیزی سے احتراز ان چیزوں کے سوچنے کا یہ وقت نہیں ہے۔پہلے آپ بلوغت تک تو پہنچیں۔محبت ایک الگ اور بڑی قابل قدر چیز ہے۔لیکن محبت کے نتیجہ میں آپ کے اعمال میں ٹھوس تبد یلیاں رونما ہونی چاہئیں جو آپ کی محبت کو سچا کر دکھا ئیں۔محبت کے نتیجہ میں ساری قوم کو تیار رہنا چاہیے کہ جو کچھ وہ کہتی ہے جب وقت آئے تو عملاً سب کچھ پیش کر کے اپنے دعوی کو سچا کر دکھائے۔لیکن محبت کے نتیجہ میں آپ کو مبالغہ آمیزیاں کرنے یا ان مسائل میں دخل اندازیاں کرنے کا آپ کو کوئی حق نہیں جو آپ کے لئے بنائے نہیں گئے۔کیونکہ آپ کا دائرہ کار اور ہے ہاں اگر خدا تعالیٰ کسی خلیفہ کو خبر دے کہ میں تمثیلی طور پر تجھے فلاں بنا تا ہوں اور وہ یہ اعلان کرے تو ہر مومن احمدی کا دل خود بخود حمد سے بھر جائے گا اور وہ تسلیم کرے گا لیکن یہ آواز (masses) عوام الناس سے نہیں اٹھ کر اوپر جائے گی۔یہ بالکل جھوٹا تصور ہے۔اس طرح قو میں تباہ ہو جایا کرتی ہیں۔