مشعل راہ جلد سوم — Page 6
ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم وقت پہن رکھی تھی۔مرتب) وہ انگوٹھی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھوں میں تھی۔میں ایک گنہگار اور عاجز انسان ہوں۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ مقدس انگوٹھی اس گنہ گار کی انگلی میں آئے گی لیکن خدا کی تقدیر نے یہی ظاہر فرمایا۔اس انگوٹھی کا پیغام وہی پیغام ہے جو میں آپ کو دے رہا ہوں۔ایک وقت تھا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے دنیوی معاملات کی کچھ بھی خبر نہیں تھی۔کچھ پتہ نہیں تھا کہ جائیداد کیا ہے؟ کتنی ہے؟ کون قابض ہے؟ دنیا کے نظام کیسے چلتے ہیں؟ آپ اللہ کے لئے خالصہ وقف ہو چکے تھے۔اس وقت ایک شام آپ کو یہ الہام ہواوَ السّماءِ وَ الطَّارِقِ کہ رات کو آنے والا ایک حادثہ ہے اور تمہیں کیا پتہ ہے کہ وہ حادثہ کیا ہے۔یہ سنتے ہی آپ کی توجہ اپنے والد کی طرف منتقل ہوئی جو بہت بیمار تھے اور معا یہ خیال گذرا کہ خدا تعالیٰ مجھے یہ اطلاع دے رہا ہے کہ آج رات تمہارے والد اس جہانِ فانی سے کوچ کر جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں کہ اُس وقت میرے دل میں یہ وہم سا گذرا اور فکر کا ایک سایہ سا آیا کہ میرے والد ہی تو میرے کفیل تھے اور دنیا کی مجھے کچھ خبر نہیں۔اپنے بھائیوں اور عزیزوں سے مجھے کوئی توقع نہیں۔اب میرا کیا بنے گا؟ جب یہ خیالات آپ کے دل میں پیدا ہوئے تو معا بڑے زور اور شدت کے ساتھ اور خاص جلال کے ساتھ یہ الہام ہوا۔أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں؟ اس الہام کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی پر ایک زلزلہ سا طاری ہو گیا اور طبیعت شدت کے ساتھ استغفار کی طرف مائل ہوئی لیکن جوں جوں وقت گذرتا چلا گیا معلوم یہ ہوتا چلا گیا کہ یہ ایک عظیم الشان خوشخبری تھی جو ہمیشہ ہمیش کے لئے آپ کے لئے بھی تھی اور آپ کے ساتھ کے درویشوں کے لئے بھی تھی۔گویا اس الہام کے فیض سے جماعت احمد یہ ہمیشہ مستفیض ہوتی رہے گی اور گویا یہ اعلان تھا کہ آج دنیا میں ایک ہی تو ہے جو میرا بندہ کہلانے کا مستحق ہے۔ماؤں کا لعل ہوتا ہے تو وہ اس کو نہیں چھوڑا کرتیں پھر تمہیں کیسے یہ وہم ہوا کہ میں اپنے بندہ کو اس دنیا میں اکیلا چھوڑ دوں گا۔اگر تجھے چھوڑ دیا تو دنیا میں اور کون ہو گا جسے میں اپنا بنا سکوں۔چونکہ آپ بندگی کا خلاصہ تھے اور آپ وہ تھے جن سے آگے عبادت کرنے والے پیدا ہونے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا۔قبل ازیں خدا کی قدرت کا ایک زبر دست نظارہ دنیا نے جنگِ بدر میں دیکھا جس کی یاد آج بھی دلوں کو ایمان سے بھر دیتی ہے۔جنگ بدر میں ۱۳ ۳ صحابہ جن میں بوڑھے بھی تھے اور بچے بھی۔کمزور اور نحیف