مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 73

مشعل راه جلد سوم سپین کا سفر اور افضال الہی 73 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی یہ سارا سفر مختلف رنگ میں خدا تعالیٰ کے فضلوں کا مظہر رہا۔بارش ، موسلا دھار بارش کی علامت کیا ہوتی ہے۔وہ جل تھل کو بھر دیتی ہے۔خشکی کو بھی اور تری کو بھی اور مذہبی اصطلاح میں خشکی سے مراد غیر مذہبی دنیا ہوتی ہے اور تری سے مراد مذہبی دنیا ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس محاورہ کو استعمال کرتے ہوئے فرمایا:- ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :42) حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے سے پہلے خشکی بھی فسق و فجور اور عصیان اور بدیوں سے بھر گئی تھی اور تری بھی بھر گئی تھی۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں یہ معنے سمجھائے کہ خشکی سے مراد غیر مذہبی دنیا ہے اور ترکی سے مراد مذہبی دنیا ہے۔کل عالم ہی گندہ ہو چکا تھا جب حضرت اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔تو ان معنوں میں میں یہ استعمال کر رہا ہوں۔قرآنی محاورہ میں حقیقینا اللہ تعالیٰ کے فضلوں نے خشکی کو بھی بھر دیا اور تری کو بھی۔خدا کے فضل حقیقت میں دلوں پر نازل ہوا کرتے ہیں اور یہ قلب سے تعلق رکھنے والا محاورہ ہے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے دلوں میں بھی ہم نے غیر معمولی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضلوں کی بارش برستے دیکھی اور غیر مذہبی دنیا جو بظاہر مذہب کی طرف منسوب ہوتی ہے لیکن حقیقت میں ان کی بھاری اکثریت خدا کی بھی قائل نہیں رہی۔ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص قدرت کے ساتھ فرشتے نازل ہوتے دیکھے جنہوں نے ان دلوں کو ( دین حق) کے حق میں مائل کیا اور خوب کثرت کے ساتھ اور اس شدت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ہوئی ہے کہ آنکھیں اس نظارہ کو دیکھتی تھیں تو نمناک ہو جاتی تھیں۔دل خدا کی حمد کے گیت گاتا تھا۔یہ ایک لمبا مضمون ہے۔یورپ کی جو جماعتیں ہیں، وہ ان حالات میں سے گزری ہیں۔ان کو علم ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ ان کے دلوں کو مربوط فرمایا اور دیکھتے دیکھتے ان کے اخلاص میں ترقی دی۔وہ چہرے جو پہلے خاموش خاموش چہرے تھے ان پر روحانیت کی نئی چمک آنی شروع ہوئی ، وہ آنکھیں جو خشک آنکھیں تھیں اللہ کی یاد سے تر ہونے لگیں اور خدا کی یاد میں آنسو بہانے لگیں۔ایک ایسا عجیب نظارہ تھا، خدا کے فضلوں سے دلوں کے بھرنے اور پھر ان کے چھلک جانے کا کہ وہی