مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 679 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 679

679 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا تو جتنا بھی سکھایا ہے اور جو بھی سکھایا ہے۔یہ میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس دعا کی مقبولیت کا ایک نشان ہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں (دعوت الی اللہ ) کرنے کے گر سیکھیں۔کیونکہ نکلنا تو آپ نے ہے۔خواہ ہلکے ہوں خواہ بھاری ہوں۔امیر ہوں یا غریب ہوں یہ تو خدا نے آپ پر فریضہ عائد کر دیا ہے۔اب تو اس سے گریز کا چارہ ہی کوئی نہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے گر تو سیکھیں کہ کس رنگ میں بہترین ( دعوت الی اللہ ) کر سکتے ہیں۔دنیا میں تین قسم کے آدمی ہیں آپ فرماتے ہیں کہ دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔عوام۔متوسط درجہ کے، یہ درمیانی طبقہ ہے۔اور امراء۔عوام عموماً کم فہم ہوتے ہیں۔ان کی سمجھ موٹی ہوتی ہے۔اس لئے ان کو سمجھانا بہت ہی مشکل ہے۔ہمارا تجربہ ہے کہ عوام کیونکہ علم نہیں رکھتے اس لئے اپنے ملانوں پر انحصار کرتے ہیں اور اس وجہ سے ان کے لئے راہ حق کو پانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں ہمیں تو پتہ کچھ نہیں۔خدا جانے یہ ٹھیک بات کہہ رہا ہے یا غلط بات کہہ رہا ہے۔اپنے علماء سے اپنے خوجوں سے پوچھو۔اور جب ان کے پاس جاتے ہیں تو ان کو گمراہ کر دیتے ہیں۔اس لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ تجر بہ بالکل درست ہے کہ اگر چہ عوام سادہ لوح ہوتے ہیں لیکن باوجود اس کے بات اس لئے نہیں سمجھتے کہ اپنے پر اعتماد نہیں ہے۔دوسرے متوسط درجے کے لوگ ہیں۔یہ وہ طبقہ ہے جس کو مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تمہیں خصوصیت سے (دعوت الی اللہ) کا نشانہ بنانا چاہیے۔تیسرے امراء ہیں۔آپ فرماتے ہیں عوام عموما کم فہم ہوتے ہیں۔ان کی سمجھ موٹی ہوتی ہے۔اس لئے ان کو سمجھانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔امراء کے لئے سمجھانا بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ نازک مزاج ہوتے ہیں اور جلد گھبرا جاتے ہیں۔اور ان کا تکبر اور تعلی اور بھی سید راہ ہوتی ہیں یعنی راہ کی روک بن جاتے ہیں۔اس لئے ان کے ساتھ گفتگو کرنے والے کو چاہیے کہ وہ ان کی طرز کے موافق ان سے کلام کرے یعنی مختصر مگر پورے مقصد کو ادا کرنے والی تقریر ہو تھوڑی سی بات کریں اور ان کے پاس زیادہ وقت نہیں بات سننے کا۔اور ان کا ذاتی تکبر اور انا اُن کے رستے میں حائل ہو جاتی ہے۔فرماتے ہیں وہ بات کچھ سمجھ سکتے ہیں پھر فرماتے ہیں بہت ہی صاف اور عام فہم ہونی چاہیے۔رہے اوسط درجہ کے لوگ زیادہ تر یہ گروہ اس قابل ہوتا ہے کہ اُن کو ( دعوت الی اللہ ) کی جائے ، یہ متوسط درجے کے لوگ نہ بہت