مشعل راہ جلد سوم — Page 676
676 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اس سے مراد مسافرا اور مقیم ہیں یعنی خدا کی راہ میں نکلنے کا حکم مسافر کے لئے تو اس لحاظ سے ایک زائد حکم بنتا ہے وہ پہلے ہی سفر میں ہے مگر مراد یہ ہے کہ سفر خواہ کسی نوعیت کا بھی ہو ہر سفر کو خدا کی راہ کا سفر بنالو اور اسی طرح مقیم اگر چہ سفر پر نہیں ہوتا اس کے متعلق یہ نہیں سوچا جا سکتا کہ خدا کی راہ میں نکلا ہے مگر مقیم رہتے ہوئے بھی وہ کئی طریقے سے خدا کی راہ میں ( دعوت الی اللہ کے) سفر کر سکتا ہے پس فرماتے ہیں کہ مراد مسافر بھی ہے اور مقیم بھی پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مستعد اور ست ہے۔مستعد جس کو جس طرف بلایا جائے جس کام پر بلایا جائے وہ تیزی سے لپکتا ہے اورست جو بوجھل محسوس کرتا ہے اپنے آپ کو۔خفافاً وثقالاً کا مطلب ہے کہ وہ جو ہر آواز پر بڑی تیزی سے لبیک کہتے ہیں اور آواز کی طرف لپکتے ہیں وہ گویا خفافا ہو گئے اور وہ جو آواز پہ بلانے پر آتے تو ہیں مگر بوجھل قدموں کے ساتھ وہ ثقالاً کے تابع شمار ہوں گے یہ سب لوگ اس آیت کے عموم میں داخل ہیں اور اس آیت کا یقینی طور پر مقصد یہ ہے کہ ہر حال میں خواہ وہ مشکل ہو یا آسان لوگوں کو جہاد کے لئے نکلنے کی ترغیب دلائی جارہی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ حضرت امام راغب جس زمانہ کی بات کر رہے ہیں عموماً اس زمانہ میں تلوار کا جہاد ہوا کرتا تھا۔ہتھیاروں سے جہاد ہوا کرتا تھا مگر اسی آیت کا اطلاق اس زمانہ میں جبکہ جہاد کی نوعیت بدل گئی ہے۔قلم کا جہاد ہے اور تقریر کا جہاد ہے اور حکمت کے ساتھ پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کا جہاد ہے۔اس پہلو سے اس کے کیا معنے ہوں گے حضرت خلیفہ اُسیح الاوّل نے انفر و اخفافًا و ثقالاً کی بحث میں فرمایا: - انفروا سے مراد ینی کام میں چلو خواہ کسی قسم کا دینی کام ہو تربیت کا ہو یا ( دعوت الی اللہ ) کا ہونوعیت دینی ہو تو اس وقت کہا جائے گا کہ انفر و نکل کھڑے ہو۔پھر فرماتے ہیں خفافاً میرے ذوق کے مطابق اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ مباحثہ میں کتابوں کے انبار لے جانے کی ضرورت نہیں حسبنا کتاب اللہ۔اس میں ایک بہت گہرا نکتہ ہمارے لئے بیان فرمایا گیا ہے جو آج کل ( دعوت الی اللہ ) کے میدان میں کام آ سکتا ہے۔بہت عمدگی سے کام میں آسکتا ہے۔کبھی جاؤ تو کتابوں کے انبار لے جانے کی ضرورت نہیں۔خفافاً میں یہ مراد ہے کہ ہلکے پھلکے بھی سفر اختیار کرو اور اگر یہ کہا جائے کہ بوجھل کا بھی ذکر ہے تو پھر جہاں ضرورت پڑتی ہے وہاں کتابوں کے انبار بھی اٹھانے پڑتے ہیں چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں (دعوت الی اللہ ) دونوں طرح سے ہوتی تھی بعض دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت سی کتابوں کی ضرورت پڑتی تھی اور اکٹھی کروائی جاتی تھیں تو وہ ثقالاً ہو گیا اور بسا اوقات صرف قرآن