مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 667 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 667

مشعل راه جلد سوم 667 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی بیماریاں ہیں۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماریوں کا ذکر نہیں فرمار ہے۔آپ فرما رہے ہیں جو دانت تمہیں خدا نے دیئے ہیں جس حالت میں دیئے ہیں ان کی حفاظت تم پر فرض ہے۔اگر اچھے دانتوں والا پانچ وقت کی اس عادت کو اپنالے تو کبھی اس کے دانت خراب نہیں ہوں گے۔چنانچہ میری ملاقاتوں پر جو لوگ آتے ہیں ان میں بعض دفعہ نیا دولہا دلہن بہت خوبصورت دانت، ہنستے ہیں تو موتیوں کی طرح دانت دکھائی دیتے ہیں۔ان کو میں ضرور نصیحت کیا کرتا ہوں۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ایک نعمت عطا فرمائی ہے اور ایک اور نعمت بھی دی ہے۔دنیا اس سے اعراض کرتی ہے لیکن آپ نے اعراض نہیں کرنا ، وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ اس نعمت کے سہارے اس ظاہری نعمت کی حفاظت کر سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا ہے کہ پانچ وقت مسواک کیا کرو۔آج کل مسواک نہیں تو ٹوتھ پیسٹیں (Tooth Pastes) ہر قسم کی موجود ہیں۔اگر پانچ وقت کرو تو ساری زندگی دانت صاف رہیں گے اور لوگوں کا یہ خیال ہے کہ عمر کے ساتھ دانت ضرور جھڑتے ہیں ، یہ غلط ہے۔عمر کے ساتھ اچھے دانت جن کی حفاظت کی جائے وہ مضبوط بھی رہتے ہیں۔کیونکہ دانتوں کی مضبوطی کا تعلق مسوڑھوں کی مضبوطی سے ہے اور جب آپ ان کی پانچ وقت صفائی کریں تو وہ جراثیم مسوڑھوں کو نرم ہونے ہی نہیں دیتے ، وہ ہمیشہ ٹھیک رہتے ہیں۔۔ایک معمولی، چھوٹی سی مثال میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے۔اس صحبت کے لئے آپ کے نعمت ہونے کا تصوران روزمرہ کی نصیحتوں میں سے اخذ کریں جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمائیں۔جسم کو پاک صاف رکھنا، ہر قسم کی بدیوں سے دور بھاگنا، جسم کی صفائی، ان میں سے ہر نصیحت ایک بہت بڑی نعمت ہے اور وہ سارے بدن کی صحت کے لئے انتہائی ضروری بن جاتی ہے۔یہاں تک نصیحت کہ کھانے سے کب ہاتھ کھینچنا ہے اور کن چیزوں میں تکلف نہیں کرنا۔جو کھانا ہے وہ پاک ہو، حلال ہی نہ ہو پاک بھی ہو۔جب بھی اس میں یہ شبہ ہو کہ وہ حلال تو ہے مگر پاک نہیں رہا، اس کو اٹھا کر پھینک دو یا دوبارہ اتنا گرم کر لو کہ یقین ہو جائے کہ وہ ناپا کی اس میں سے مرگئی ہے۔یہ صرف چند چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ، ان کا حد و شمار ہی نہیں ہے۔میں نے تو ہمیشہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا تصور باندھا اور غور کیا تو حیران رہ گیا کہ کلیہ ساری زندگی کے لئے ہم غلامان مصطفیٰ آپ کے احسانات کے تلے اتنا دب چکے ہیں کہ کبھی سر اٹھانے کی جرأت بھی نہیں کر سکتے۔جو صحابہ آپ کے سامنے آوازیں نیچی