مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 655 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 655

مشعل راه جلد سوم 655 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی حضرت خلیفہ المسح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ياَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا قُوْا أَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ O يَا يُّهَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُوْنَ (سورة التحريم: 7-8) میہ وہ آیات کریمہ ہیں جن کی تلاوت میں نے امریکہ کے آخری خطبہ میں بھی کی تھی اور ان آیات کے مضمون کے پیش نظر تمام ایسے متمول احمدیوں کو خصوصیت سے نصیحت کی تھی جو اپنے اموال سے اللہ کی نسبت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کے ہاتھوں سے ان کی اولا دمیں بھی نکلی چلی جارہی ہیں اور جو مال وہ جمع کرتے ہیں وہ ان کے کسی کام نہیں آئے گا۔یہ ایک عمومی نصیحت تھی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہاں کی جماعت کے اکثر لوگ اس میں ان معنوں میں مبتلا ہیں کہ جماعت کے چندوں پر کوئی بداثر پڑتا ہے۔کیونکہ یہ لوگ جو محروم ہیں ان کی ادائیگیاں ان لوگوں کے مقابل پر جو اللہ کی راہ میں ویسا ہی مال خرچ کرتے ہیں جیسا کہ خدا ان کو عطا فرماتا ہے وہ اتنی زیادہ ہیں کہ اگر ان کی ساری قربانیوں کو ایک طرف پھینک دیا جائے تو ایک فی صد بھی امریکہ کی جماعت کی آمد میں فرق نہیں پڑتا تھا بلکہ یہ بھی مبالغہ ہوگا ایک فیصد کہنا بھی۔اس لئے ہرگز کوئی مالی ضرورت کا احساس نہیں تھا جس کے پیش نظر میں نے یہ خطبہ دیا۔یہ احساس تھا کہ وہ لوگ جو بدنصیب ہیں وہ بچائے جا سکتے ہیں تو ان کو بچالیا جائے۔نئی نسلوں کو بچالو اور شروع ہی سے ان کی فکر کرو اس ضمن میں ایک اور بات جو خاص طور پر قابلِ توجہ ہے جو امریکہ میں بیان نہیں کی مگر اب میں اس خطبے میں اسے بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ قُوْا اَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ نَارًا میں یہ بھی ہدایت ہے کہ اپنی