مشعل راہ جلد سوم — Page 651
651 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم میرے عمل کو جانچیں اور اس کی روشنی میں ہی اپنے عمل کو بھی جانچیں اور اپنی اولاد کی فکر کریں۔بہت سے بچے ضائع ہورہے ہیں، غیر معاشرہ ان پر قبضہ کر رہا ہے۔کبھی کسی دنیا میں غیر معاشرے کو اتنی طاقت گھروں میں داخل ہونے کی نہیں ہوئی جتنی آج ہو چکی ہے۔جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا یہاں کا میڈیا، یہاں کی ٹیلی ویژن کی تصویر میں اور پھر اردگرد کا ماحول، ناچتے پھرتے بچے دکھائی دیتے ہیں۔ان باتوں کو روکنے کے لئے جو دنیا کی کوششیں ہیں وہ بھی کریں۔بعض دفعہ بچوں کو یہ دیکھ کر بہت مزہ آتا ہے کہ بچے تالاب میں پھر رہے ہیں ، ننگے دوڑ رہے ہیں، پھر رہے ہیں۔ان کی تسکین جو ہے نہانے کی اور تیرنے کی وہ تو پوری ہونی چاہیے کسی طریقے سے لیکن اس طرح نہیں جس طرح یہ لوگ کرتے ہیں۔تو بچپن سے ان کے لئے جن لوگوں نے تالاب بنالئے ، جن کو توفیق ملی ان پر میرا کوئی اعتراض نہیں۔جن کو خدا نے توفیق دی ہے وہ بے شک بنا ئیں مگر اتنا دکھاوا نہ کریں کہ وہ تالاب لوگوں کی نظر کے لئے ہوں نہ کہ بچوں کے نہانے کے لئے۔مجھے یاد ہے امریکہ آنے سے بہت پہلے بھی مجھے یہ خیال رہتا تھا کہ میری بچیاں بڑی ہوں گی تو یہ محسوس نہ کریں کہ ہمیں تیرنا نہیں آیا، نہ ہمیں نہانے کا آزادانہ مزہ آیا۔اس لئے یہاں کے معاشرے کا تو مجھے خواب و خیال بھی نہیں تھا مگر اپنے فارم پہ میں نے ایک تالاب بنا رکھا تھا چھوٹا سا جس میں میرے بچے مجھ سے سیکھتے تھے۔ان کے ساتھ ہی خاندان کے اور بچے بچیاں آکر پاکیزہ ماحول میں تیرنا بھی سیکھتے تھے اور مزے بھی پورے کرتے تھے۔جب یہ بچیاں، ان میں سے دو بڑی بچیاں میں ساتھ لے کر امریکہ آیا تو یہاں کے تالابوں نے ان پر ذرہ بھی اثر نہیں کیا۔کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ہمارا حق ہمیں دیا گیا ہے اور ان پر رحم کرتی تھیں جو اپنا جسم بیچنے کے لئے نہاتے ہیں۔کراہت سے ان پر نظر پڑتی تھی اور اپنے متعلق پورا اطمینان تھا کہ ہمارا جو حق ہے ہمیں عطا کیا گیا ہے۔تو یہ میں باتیں اس وقت کی کر رہا ہوں جب میں ابھی امریکہ نہیں آیا تھا۔تو یہاں کے لوگ اگر اس نیت سے تالاب بنانے کی توفیق رکھتے ہوں کہ گھر میں پاکیزہ ماحول میں ان کی تربیت ہو سکے تو ہر گز کوئی برائی کی بات نہیں ہے۔اس کو تکاثر اور تفاخر نہیں کہتے۔مگر تالاب کے بہانے اگر اتنے بڑے بڑے ہال بنائے جائیں ، اتنی بڑی بڑی چکو زیاں ہوں کہ دیکھتے ہی طبیعت میں کراہت پیدا ہو، یہ تو کوئی مومنانہ طریق نہیں ہے۔اس سے تو اگر بچے یہاں نہائیں گے بھی تو بیرونی معاشرے کی اور بھی زیادہ قدر کریں گے۔وہ سمجھیں گے کہ ہمارے ماں باپ نے انہی کو اپنی بڑائی کا ذریعہ بنارکھا ہے۔تو یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو میرے اس سفر کے دوران تجربے میں شامل ہیں۔ان کی تفصیل میں میں نہیں جانا