مشعل راہ جلد سوم — Page 60
مشعل راه جلد سوم 60 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تیار ہوں۔چنانچہ وہاں گئے۔ایاز کو بھی ساتھ لیا۔اس کو حکم دیا گیا کہ تالے کھولو۔اس نے کوشش کی کہ صرف بادشاہ اندر آئے ، باقی نہ آئیں۔لیکن بادشاہ نے کہا نہیں۔ان کا الزام ہے۔مجھے ان کو دکھانا پڑے گا کہ کیا واقعہ ہے۔چنانچہ جب تالے کھولے گئے تو اس کمرہ میں سوائے پھٹے پرانے کپڑوں کے کچھ بھی نہیں تھا۔بوسیدہ کپڑے، پھٹی ہوئی ٹوپی، ایک پرانی جوتی کے سوا کچھ نہیں تھا۔سارے حیران رہ گئے کہ اس کو اتنے تالے لگانے کی کیا ضرورت تھی۔کیا مصیبت پڑی تھی کہ راتوں کو چھپ کر ان چیزوں کی زیارت کے لئے یہ آیا کرے۔تب بادشاہ نے کہا۔میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں کہ اس کا راز بتاؤ۔اس نے کہا۔راز یہ ہے کہ آپ میرے بے حد مہربان آقا ہیں۔آپ نے مجھ پر بے شمار احسانات کئے ہیں۔میں ان احسانات میں کھو کر اپنی پرانی حیثیت نہیں بھولنا چاہتا تھا۔میں ہمیشہ اپنے آپ کو یہ یاد کرانا چاہتا تھا کہ اسے ایاز ! تیرا یہی دوکوڑی مول ہی تو ہے۔تو در بدر کی ٹھوکریں کھانے والا ایک عام آدمی ہی تو تھا۔تیرے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔جوتے پھٹے ہوئے تھے۔ٹوپی بوسیدہ تھی۔کئی کئی وقت تجھے فاقے بھی کرنے پڑتے تھے۔پس یاد کر اس آقا محمود کے احسان کو۔اس نے تجھے کہاں سے اٹھایا اور کہاں پہنچادیا۔پس اس واقعہ کو بیان کر کے میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ اللہ سے محبت کرنے کے لئے آپ کو ایا ز والے کپڑے بھی رکھنے پڑیں گے۔یہ یادرکھنا پڑے گا کہ ہم کیا حقیر چیز ہیں۔پھر بھی وہ خدا جو ساری کائنات کا مالک ہے ہم سے خود محبت کا سلوک فرماتا ہے۔اپنی اصلیت کو کبھی نہ بھولنا پس تم نے اپنی اصلیت کو کبھی نہیں بھولنا۔اور ہمیشہ یادرکھنا چاہیے کہ جب وہ انعام زیادہ کرے تو اور زیادہ جھکتے چلے جائیں اپنے رب کے حضور اور سوچیں کہ ہم تو اس قابل بھی نہیں تھے۔اگر یہ سیکھ لیں گے تو پھر احسان کا بدلہ شکر کے طور پر ادا کرنا بھی سیکھ جائیں گے۔اگر یہ راز سمجھیں گے تو احسان کے احساس کو نقصان پہنچے گا اور آپ کے شکر کی طاقت کمزور پڑ جائے گی۔اگر انسان سمجھنے لگ جائے کہ ہاں مجھ پر بڑا احسان ہے مگر میں اس لائق ہوں، یہ میرا حق ہے۔تو اس کے نتیجہ میں نفس دھوکا کھا جاتا ہے اور انسانی بڑائی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور شکر کا احساس کم ہو جاتا ہے۔پس ایاز نے ہمیں یہ راز سکھایا کہ محبت اور وفا کا اولین تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی حیثیت کو کبھی نہ بھولے۔تو جب آپ یہ سوچیں گے کہ ہم تو کوئی چیز ہی نہیں ہیں۔اس ساری لامتناہی کائنات میں ہماری ایک ادنی حیثیت ہے۔ہمارے ملک ہی کا کوئی مقام نہیں تو ہمارا کیا ہونا ہے۔دنیا کی بڑی طاقتوں کے