مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 632 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 632

مشعل راه جلد سوم 632 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی پھرتے ہو جو بعض دفعہ نظام کے خلاف سراٹھاتے ہو تمہیں کیا پتہ کہ تم سے بڑے بڑے صائب الرائے تھے جو اولی الامر کے سامنے جھک گئے۔جہاں خدا نے اجازت دی وہاں پھر صائب الرائے ہونا جو ان کی صلاحیت تھی یہ بہت چکی ہے لیکن اس سے پہلے نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور تو ان کا یہ حال تھا کہ جہاں آپ نے فرمایا اپنی تمام راؤں اور دانشوں کو اس کے سامنے حقیر سمجھا اور جو کچھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو واجب الامر قرار دیا۔ان کی اطاعت میں گمشدگی کا یہ عالم تھا۔اطاعت میں گمشدگی اب دیکھیں کتنا پیارا محاورہ ہے۔اطاعت میں کلینہ گم ہو چکے تھے اور اتنا گم ہو چکے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فعل سے برکت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ یہ بھی اطاعت ہے۔یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھولا ہے کہ جو بعض عجیب و غریب حرکتیں ہمیں اس وقت دکھائی دیتی ہیں اس کی وجہ اطاعت تھی۔اتنے کامل مطیع ہو چکے تھے کہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فعل کوئی حرکت بھی ایسی نہیں کہ اگر اس کو اپنانے کی کوشش کی جائے تو وہ بے فائدہ ہوگا۔ان کی اطاعت میں گمشدگی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے وضو کے بقیہ پانی میں برکت ڈھونڈتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے کسی نے بھی ان مضامین کو نہیں باندھا ہوا تھا۔بڑے بڑے مقررین بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا عشق تھا لیکن وہ کیا عشق تھا اس کی کہنہ کیا تھی یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں۔" آپ کے وضو کے بقیہ پانی میں برکت ڈھونڈ تے تھے اور آپ کے لب مبارک کو متبرک سمجھتے تھے اور اگر ان میں یہ اطاعت، یہ تسلیم کا مادہ نہ ہوتا بلکہ ہر ایک اپنی ہی رائے کو مقدم سمجھتا اور پھوٹ پڑ جاتی تو وہ اس قدر مراتب عالیہ کو نہ پاتے۔میرے نزدیک شیعہ، سینیوں کے جھگڑوں کو چکا دینے کے لئے یہی ایک دلیل کافی ہے۔اب یہ دلیل کیسے بنی جب تک مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں سمجھیں گے نہیں آپ کو سمجھ نہیں آئے گی۔فرماتے ہیں۔