مشعل راہ جلد سوم — Page 591
مشعل راه جلد سوم 591 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی حضرت خلیفہ اصبح الرابع رحم الله تعالى تشهد وتعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرماتے ہیں:۔الم ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُوْنَ O (البقره: 2 تا4) الحمد للہ ، آج اس خطبے کے ساتھ میرا مختصر دورہ کینیڈا اختتام پذیر ہوگا۔اس عرصے میں مجھے یہاں بھی بہت سے خاندانوں سے ملنے کا موقع ملا اور بالعموم کثرت سے جماعت کو دیکھنے کا موقع ملا اور گزشتہ روز جب میں آٹو وا اور مانٹریال کے سفر پہ تھا تو وہاں بھی کثرت سے جماعتوں سے ملاقات ہوئی اور ان کے حالات کو قریب سے دیکھا۔اس خطبے میں خصوصیت کے ساتھ میں نے عبادت کا مضمون چنا ہے اور اسی لئے میں نے وہ آیات تلاوت کی ہیں جو قرآن کریم کی سورہ بقرہ کی پہلی آیات ہیں۔سب سے پہلے اللہ تعالیٰ قرآن کریم کا تعارف ان الفاظ میں فرماتا ہے۔ذلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ یہ کتاب ہے بلکہ ذلِكَ الْكِتَابُ فرمایا۔وہ کتاب ہے۔حالانکہ بظا ہر قرآن کریم ہر پڑھنے والے کے سامنے ہوتا ہے اور عام انسان کا کلام ہوتا تو کہتا یہ کتاب ہے۔لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس ”وہ“ میں بہت سے معافی مضمر ہیں۔ہدایت اسی کتاب سے ملے گی ایک تو یہ کہ انسان کو یہ وہم ہے کہ وہ قرآن کریم کو ز خود پاسکتا ہے۔سامنے پڑی ہوئی کھلی کتاب ہے اور اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے وہ کتاب ہے۔یعنی تم سے دور ہے اور تمہارے قریب آسکتی ہے۔مگر کچھ شرطیں ہیں جو پوری کرنی ہوں گی اور پھر ذلک میں اشارہ گزشتہ پیشگوئیوں کی طرف بھی ہے۔کیونکہ تمام انبیاء نے مختلف رنگ میں آنے والے رسول حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر نازل ہونے والی عظیم