مشعل راہ جلد سوم — Page 583
583 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم محبت پیدا کرنا اور نمازوں کا فلسفہ سکھانا یہاں تک کہ وہ دل کو متحرک کر دے، دل میں ایک تموج پیدا کر دے، یہ وہ چیز ہے جو بچوں کی آئندہ نمازوں کی حفاظت کرے گی اور ایسی حفاظت کرے گی کہ ماں باپ بچپن سے ہی ان کو چھوڑ کر جاسکتے ہیں پھر وہ خدا کے حوالے ہوں گے۔اللہ ان کا ہاتھ پکڑ لے گا اور ماں باپ کی آرزوؤں کو ایسے وقت میں پورا کرے گا جب ماں باپ موجود ہی نہیں ہیں۔پس اگر اپنے بچوں کے دل میں خدا کی محبت عبادت کے حوالے سے پیدا کریں تو یہ نظام وہ ہے جو بچوں کی ہر حال میں ہر جگہ حفاظت فرمائے گا۔ایسے اعلیٰ کردار کے بچے جب پیدا ہوں پھر وہ سوسائٹی میں جائیں تو ان کو اس کی کوئی بھی پرواہ نہیں ہوگی۔یعنی اس پہلو سے تو پرواہ ہوگی کہ یہ بھی اچھے ہو جائیں۔اس پہلو سے پرواہ ہوگی کہ ان کو بھی میں بتاؤں کہ خدا کی محبت میں کیا مزے ہیں نیکیوں میں کیا لذات ہیں۔مگر اس پہلو سے کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ وہ ان نیکیوں کو بدی کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔چنانچہ آپ ہی کے امریکہ میں ایک دفعہ نہیں، بارہا ایسا ہوا ہے کہ بعض احمدی بچوں نے لڑکوں نے یا بعض احمدی لڑکیوں نے خطوں کے ذریعے مجھ سے سوال کئے اس طرح ہمارے لئے مسئلہ در پیش ہے، بتائیں ہم کیا کریں۔ان کو میں نے یہ تفصیل سے تو نہیں سمجھا یا مگر کسی حد تک مختصر مرکزی بات سمجھا دی کہ آپ اگر ایک بات کو نیکی سمجھ رہے ہیں تو اس کے اوپر ذاتی فخر محسوس کریں اور سوسائٹی کی کوئی پرواہ نہ کریں۔پھر دیکھیں کہ آپ کے دل میں کیا کیفیات پیدا ہوتی ہیں اور بلا استثناء ان سب نے مجھے یہی بتایا ، کسی نے جلدی کسی نے دیر کے بعد ، کہ اب تو ہم مؤثر ہونے لگ گئے ہیں اور سوسائٹی متاثر ہو رہی ہے۔اب لوگ قریب آکر ہمارے انداز سیکھ رہے ہیں۔اس ضمن میں ایک اور بات جو آپ کو سمجھانے والی ہے وہ یہ ہے کہ بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کو آپ معمولی نہ سمجھا کریں۔میں نے کئی بچوں کو دیکھا ہے ان کے گلے میں تعویذ سے لٹکے ہوئے ہیں۔کسی کے کان میں بندا پڑا ہوا ہے، کسی کے بالوں کا حلیہ بگڑا ہوا ہے، قریب سے رگڑے گئے ہیں بال اور اوپر سے بڑے بڑے ہیں۔ٹوپی پہنیں تو لگتا ہے ٹنڈ کروائی ہوئی ہے۔ٹوپی اتاریں تو بڑے بڑے بال دکھائی دیتے ہیں۔ان کو سمجھانا چاہیے کہ اگر تم کچھ عرصہ پہلے، جب یہ فیشن نہیں تھا، کسی دکان میں جاتے وہ یہ حالت تمہاری بنادیتا تو نہ صرف یہ کہ تم نے پیسے نہیں دینے تھے اس سے بڑی سخت لڑائی کرنی تھی کہ او بد بخت تو نے کیا حال بنا دیا ہے۔یہ کوئی شکل ہے میری دیکھنے والی۔اب اسی شکل کو تم لئے پھرتے ہو سوسائٹی میں، اس لئے نہیں کہ تمہیں پسند ہے۔اس لئے کہ تم پیچھے چلنے لگ گئے ہو، تم غلام ہو گئے ہو اور غلام کی کوئی عزت نفس