مشعل راہ جلد سوم — Page 553
553 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ہے۔انبیاء تو بدیوں کو کاٹنے والے ہوا کرتے ہیں اور اگر پہلی نسلوں میں بدیاں قائم ہو چکی ہوں تو اس کی اولادوں کو پہلی نسل سے کاٹا کرتے ہیں اور اگر وہ نہ کاٹیں تو ان کے ماں باپ اپنی اولادوں کو کاٹ کر الگ پھینک دیا کرتے ہیں۔چنانچہ انبیاء کوقبول کرنے کی جو کہانی ہے وہ ساری دنیا میں ایک ہی طرح چلی ہے۔اس میں کبھی آپ کوئی فرق نہیں دیکھیں گے۔آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک اور آج پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صورت میں یہی کہانی ہے جو دوبارہ زندہ کی جارہی ہے۔احمدیت پرانی نسلوں سے اس وقت کاٹتی ہے اور ان سے کاٹتی ہے جو بُرائیوں پر قائم ہوں اور جہاں تک نیکیوں کا تعلق ہے نیکیوں سے جوڑتی ہے اور اس طرح نئے رشتے قائم ہوتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو گزشتہ انبیاء کے وارث بن جایا کرتے ہیں، کیسے وقت میں پیدا ہوئے اور کن وقتوں سے جاملے؟ یہ توحید کا ایک دوسرا پہلو ہے۔یعنی غلطیوں سے برائیوں سے کاٹنے والی ، نیکیوں سے جوڑنے والی اور فاصلے پاٹ دینے والی ، فاصلے پیدا کرنے والی نہیں۔پس نادان ہیں جو یہ دیکھتے ہیں کہ احمدیت نے تو فاصلے پیدا کر دیے۔Bosnians کو Bosnians سے الگ، Albanean کوAlbanean سے الگ کر دیا۔مگر نہیں جانتے کہ الگ کر دیا تو ملایا کس سے ملایا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔اس آیت کا نشان بن گئے جس میں قرآن کریم نے پیشگوئی کی تھی وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ محمد رسول الله ان آخرین میں بھی پیدا ہوں گے جو آج تک کے لوگوں سے ملے نہیں مگر جب ملیں گے تو ایک کر دیں گے پہلوں کو دوسرں سے ملا دیں گے دوسروں کو پہلوں سے ملا دیں گے۔پس دیکھو جہاں کاٹنے کا مضمون ہے وہاں توحید میں ایک جوڑنے کا بھی مضمون ہے مگر تو حید اچھے لوگوں سے جوڑتی ہے اور برے لوگوں سے کاٹتی ہے۔اس پہلو سے احمدیت میں عظیم الشان نمونے دکھائے گئے ہیں۔حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کا صبر و استقامت ایک سیالکوٹ کے جلسے کے بعد کا نمونہ تھا جو میں پہلے بھی آپ کے سامنے بیان کر چکا ہوں۔غالباً مولوی برہان الدین صاحب کا تھا وہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سیالکوٹ کا جلسہ جب ختم ہوا تو مخالفین نے بہت دور دور تک گھیرے ڈالے ہوئے تھے اور اڈے بنائے ہوئے تھے کہ اس جلسے سے جو احمدی بکھر کر دور ہٹیں گے یعنی اجتماعی طاقت سے الگ الگ ہوں گے اس وقت ان پر حملہ کیا جائے گا۔اس وقت مولوی برہان الدین صاحب