مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 541 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 541

مشعل راه جلد سوم 541 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: - الحمد للہ کہ اللہ ہی کے فضل اور احسان کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ کا یہ سالانہ اجتماع آج اختتام کو پہنچا ہے۔حسب سابق اس مرتبہ بھی مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی نے اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے پہلے سے کئی قدم آگے بڑھائے ہیں اور حسن انتظام کے لحاظ سے یہ اجتماع غیر معمولی طور پر کامیاب رہا ہے۔ہر قسم کے مقابلہ جات میں اور کھیلوں میں ، خصوصاً ایسے کھیلوں میں جہاں جسمانی مقابلے اور ٹکراؤ زور پر ہوتا ہے،سب کھلاڑیوں نے حسن خلق کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔جیتنے والے نے بھی اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھایا ، ہارنے والے نے بھی اور بہت ہی محبت کے ماحول میں ایسے مقابلے ہوئے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے ایسے جسمانی ورزشی مقابلہ جات میں اتنا اعلیٰ خلوص اور باہمی محبت کا نمونہ اور کہیں نہیں دکھایا جاتا۔اس کے علاوہ مختلف انتظامات میں جن کے متعلق ابھی نیا تجربہ تھا یعنی نئی آنے والی قوموں کے مقابلے الگ کر وائے جائیں تاکہ اُن میں مقابلے کی رُوح پیدا ہو۔یہ تجربہ بھی خدا کے فضل سے بہت ہی کامیاب رہا ہے۔صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کی یہ خواہش تھی کہ اس دفعہ حاضرین کی تعداد میں اضافہ ہوا اور آٹھ ہزار کی بجائے دس ہزار تک پہنچ جائے۔وہ دس ہزار پوری تو نہیں پہنچ سکی مگر کم و بیش دس ہزار کے قریب قریب یہ تعداد پہنچ گئی ہے۔منتظمین نے بھی بہت محنت سے حصہ لیا ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ہر منتظم نے خواہ وہ نیا احمدی تھا یا پرانا احمدی تھا، اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی ذمہ داری کو پوری طرح ادا کیا ہے۔آج کے اجتماع میں جو اختتامی خطاب ہے اُس کا بھی دراصل تعلق تو حید باری تعالی ہی سے ہے اور آب جو تین سال یا کم و بیش تین سال اس صدی کے پورے ہونے میں باقی ہیں اُن میں توحید ہی کے مضمون پر جماعت احمدیہ کو بار بار توجہ دلائی جاتی رہے گی۔کیونکہ اس صدی میں اگر ہم تو حید کو قائم کر لیں یعنی تو حید کو تو اللہ تعالیٰ ہی نے دنیا میں قائم فرمانا ہے اگر ہم عاجز غلام بندوں کو اللہ تعالیٰ اس صدی کے آخر پر توحید کی ایسی خدمت کی توفیق عطا فرمائے جو اگلی صدی کے لئے ایک نشان بن جائے اور یہی تو حید کا جھنڈا بلند کئے