مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 510 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 510

مشعل راه جلد سوم 510 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی حکومت کرنے کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔آپ کا پیغام بالکل اور ہے اور وہ یہ ہے۔کنتم خير امة اخرجت للناس۔اے محمد مصطفیٰ کی امت اتم سب دنیا سے بہتر ہو۔اس لئے نہیں کہ تمہاری خدمت کے لئے دنیا کو پیدا کیا گیا ہے اس لئے کہ تمہیں دنیا کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔پس یہ وہ وحدت ہے جس کا ایک عظیم نمونہ آپ کو یہاں دکھانا ہے۔اس وحدت کے ذریعے دنیا میں خوف پیدا نہیں کرنا بلکہ اس وحدت کو دنیا کے قدموں میں خدمت کے لئے ڈال دینا ہے۔اس عظیم قوت کو دیکھ کر دنیا آپ کی طرف دوڑے تا کہ آپ سے فائدہ اٹھائے نہ کہ آپ سے بد کے اور پرے ہے۔جیسا کہ بعض دفعہ عظیم اتحاد کے نتیجے میں خوف پیدا ہوتے ہیں۔یہ وہ روح ہے جو آپ نے جرمن قوم میں پھونکنی ہے ان کو متنبہ کرنا اور بتانا ہے کہ اپنی عظیم صلاحیتوں سے بہترین فائدہ اٹھاؤ، یہ صلاحیتیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرو اور وہاں سے یہ قبولیت کا شرف پاکر، چمک کر نورانی بن کر پھر تمہیں واپس کی جائیں۔ان صلاحیتوں کو لے کر تم دنیا میں آگے بڑھو گے۔ان کو آپ بتائیں کہ تم نے دنیا سے ایک انتقام لینا ہے، اپنی ناکامی کا انتقام لینا ہے۔دنیا تم سے انتقام لے چکی ہے، تمہیں نا کام اور نامراد دکھا چکی ہے۔اب یہ انتقام تم صرف اسی صورت میں لے سکتے ہو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام حسنہ لے کر اٹھو عالمی وحدت کا پیغام لے کر اٹھو۔عالمی خدمت کا پیغام لے کر اٹھو۔تمام دنیا اس خدمت کے نتیجے میں تمہارے قدموں میں آ جائے گی۔لیکن محبت اور عشق کے ساتھ تمہارے قدموں میں آئے گی۔تمہارے جابر اور تمہاری وحشت اور تمہارے استبداد سے ڈر کر نہیں آئے گی۔یہ وہ دوسرا پیغام بھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا پیغام ہے کہ جب آپ نے فرمایا۔سید القوم خادمھم۔تم اس نفسیات کو کیوں نہیں سمجھتے کہ حقیقی سردار قوم کا تو وہی ہوا کرتا ہے جو اس کی خدمت کرتا ہے۔جو اپنی سب صلاحیتیں قوم کے قدموں میں ڈال دیتا ہے۔ایسے سردار کے لئے قوم اپنا سب کچھ نچھاور کر دیتی ہے۔یہ واقعہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ کے زمانے میں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔اس شان سے یہ واقعہ ظاہر ہوا ہے کہ اس کی کوئی مثال تاریخ عالم میں آپ کو دکھائی نہیں دے گی۔حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح اپنے غلاموں سے محبت کی ہے، جس طرح ان کی خدمت کی ہے، جس طرح ان سے شفقت کا سلوک فرمایا ہے، جس طرح پیار کا اظہار کیا ہے اس کے نتیجے میں ایک عظیم انقلاب وہاں برپا ہوا۔ایسی مائیں تھیں جن کے بچے شہید ہوئے، ایسی بہنیں تھیں جن کے بھائی شہید ہوئے ، ایسی عورتیں تھیں بیوائیں تھیں جن کے خاوند شہید ہو گئے۔لیکن جب ان کو بتایا گیا کہ تمہارا بھائی شہید ہو گیا تمہارا خاوند شہید ہو گیا ،تمہارا بیٹا شہید ہو گیا تو