مشعل راہ جلد سوم — Page 508
مشعل راه جلد سوم 508 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی سے زیادہ اجتماعی کارکردگی اور اجتماعیت کی اپنی ذات میں جتنی صلاحیت جرمن قوم میں ہے اتنی کسی اور قوم میں نہیں ہے۔پس حضرت مصلح موعود نے جو دیکھا کہ ایک ہٹلر وہ تھا جو عیسائی تھایا کچھ بھی نہیں تھا ایک وہ ہٹلر تھا جس نے اپنی قوم کی رہنمائی اپنے ان خیالات یا نظریات کے تابع ہو کر کی، جس نے بالآ خرقوم کو نہایت برے انجام تک پہنچایا۔لیکن ایک وہ ہٹلر ہے جو مجھ سے ملنے آیا ہے، جس نے پہلے (بیت) اقصیٰ میں جانے کا مقصد کیا اور پھر وہاں سے ہو کر مجھ تک پہنچا ہے۔وہ ہٹلر وہ ہے جو احمدی ہو چکا ہے اور اس کے حق میں دعا کرنی ضروری ہے۔پھر آپ نے دیکھا کہ اس سے میری بچیوں کا پردہ نہیں گویا کہ وہ احمدی ہے اور اخلاق میں ایسا بڑھ گیا ہے کہ اس سے احمدی عورتوں کی عفت کو کوئی خطرہ نہیں۔ان باتوں میں آپ کے لئے پیغام ہیں۔( بیت ) اقصیٰ کیا ہے؟ اگر آپ اس مضمون پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اقصیٰ کا مطلب ہے بہت دور کی ( بیت )۔پس حضرت مصلح موعود کو جو ( بیت) دکھائی گئی ہے میرے نزدیک یہ جماعت احمد یہ جرمنی ہے۔کیونکہ علم التعبیر کے ماہرین بیان کرتے ہیں کہ (بیت) جماعت ہوا کرتی ہے۔جب رؤیا میں ( بیت) دکھائی جائے تو اس سے مراد جماعت ہوتی ہے۔تو اقصیٰ ( بیت ) یعنی دور کی ( بیت )۔مراد یہ ہے کہ پہلے ایک دور کی جماعت میں جو قادیان سے، جس وقت یہ رویا دیکھی گئی، بہت دور ہے یعنی جرمنی۔وہاں جرمن قوم کا کیونکہ جب ایک قوم کے رہنما کو دکھایا جائے تو مراد قوم ہوا کرتی ہے۔جرمن قوم کارجحان احمدیت کی طرف ہوگا اور وہ اس ( بیت ) میں داخل ہوگی جو وہاں قائم ہو چکی ہوگی یعنی جماعت احمد یہ۔اور اس کے ذریعے پھر وہ مرکز کے قریب آئے گی اور مرکز کے اتنا قریب آئے گی کہ خلیفہ وقت کے دل سے نکلی ہوئی دعائیں لے گی اور ان کے کردار میں عظیم تبدیلی آئے گی۔ان کا کردار باقی یورپ کی طرح فاسدانہ نہیں رہے گا بلکہ وہ اپنی خواتین پر پاک نظریں ڈالیں گے اور ان سے وہ احترام کا سلوک کریں گے جو ( دین حق) کی تعلیم کے مطابق ایک مرد کو ایک عورت سے کرنا چاہیے۔جرمن قوم تک پہنچنے کے لئے بعض بنیادی صفات کا ہونا ضروری ہے پس یہ وہ پیغامات ہیں جو میں اس رویا میں پڑھ رہا ہوں اور مجھے تو ادنی بھی شک نہیں کہ یہ رویا انشاء اللہ بڑی شان کے ساتھ ، ان تمام خوشخبریوں کے ساتھ ، جو جرمن قوم کو دی گئی ہیں ضرور پوری ہوگی۔کب ہوگی ؟ یہ الہی فیصلہ ایک حد تک آپ کے عمل پر منحصر ہے۔جیسا کہ ہمیشہ سے خدا کی تقدیر ہے۔پس اپنے