مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 494 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 494

494 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کا دل اُسی قسم کی سوچوں میں مبتلا ہوتا ہے جن کے دل کی تمنا ہوتی ہے کہ ہم وہ ہو جائیں اور یہ ہو جائیں اور یہ برائیاں ہم سے مٹ جائیں اور وہ برائیاں ہم سے مٹ جائیں۔ان کو جب بیرونی آواز اپنے دل کی آواز کی ہم آہنگی میں سنائی دیتی ہے تو ان کے لئے یہ میوزک بن جاتی ہے، موسیقی کا کام دیتی ہے اور اسی کا نام موسیقی ہے۔ہم آہنگی کا نام موسیقی ہے۔باہر کی آواز ان کو بہت ہی بھلی اور پیاری لگتی ہے جو دل کی آواز کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ان کی اصلاح کے لئے مزید کوشش کر رہی ہوتی ہے، مزید ان کو متوجہ کر رہی ہوتی ہے۔دیکھیں غالب نے اپنے رنگ میں اس مضمون کو یوں بیان کیا ہے دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے کتنا اعلی تجزیہ کیا ہے تقریر کی لذت کا۔تقریر اس کو کہتے ہیں کہ جب وہ بیان کی جارہی ہو تو ہر انسان کے دل میں سے یہ آواز اُٹھ رہی ہو کہ ہاں یہ بھی میرے دل میں ہے۔مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ بھی میرے دل میں ہے، اب میرے دل کو آواز مل گئی ہے۔میرے جذبات کو آواز مل گئی ہے، میں بھی مبہم طور پر ایسی ہی سوچیں سوچتا تھا، میرا بھی دل چاہتا تھا کہ ایسی باتیں کروں لیکن میرے دل کو زبان نہیں ملی تھی۔اب دیکھو اس شخص نے وہ باتیں کی ہیں جو میرے دل میں تھیں مگر بے آواز تھیں۔پس نیکی کی تو فیق بھی ان لوگوں کو ملتی ہے اور نیک نصیحتوں سے تعاون کی توفیق بھی ان لوگوں کو ملتی ہے جن کے دل میں پہلے ایک ناصح پیدا ہوتا ہے۔وہ ناصح پوری طرح عمدگی کے ساتھ اس مضمون کو بیان نہیں کر سکتا۔ان کے دل میں نیکی کی تمنا پیدا ہوتی ہے۔ان کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی برائیاں جھڑیں۔وہ دعائیں کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ کیسے ان برائیوں کو اپنے سے جھاڑیں۔وہ دعائیں کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ کیسے ان برائیوں سے چھٹکارا حاصل کریں۔تب بیرونی آواز جوان تک پہنچتی ہے کہ آؤ ہم تمہاری مدد کے لئے تیار ہیں۔اس طرح کرو اور اس طرح کرو۔وہ ان کو تقویت دیتی ہے اور اپنے ناصح سے ان کو پیار ہونے لگتا ہے۔وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔دیکھو دنیا کے ناصح جب خالی دل کے ساتھ اور مصنوعی طور پر دنیا کو نصیحتیں کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ان کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے لیکن حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نصیحت فرمائی تو پہلے دلوں میں پاک تبدیلی پیدا کر کے یہ تمنا پیدا کر دی کہ ہم بھی ایسے ہو جائیں۔تزکیہ نفس پہلے رکھا اور نصیحت کو بعد میں رکھا اور وہ لوگ جن کا