مشعل راہ جلد سوم — Page 45
مشعل راه جلد سوم 45 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی واضح کر دیا کہ محبت کے سوا ہم اور کوئی پیغام لے کے نہیں آئے۔ایک موقع پر ایک پریس کے نمائندے نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ آخر کیا کرنے آئے ہیں ؟ اس مقصد کو واضح تو کریں۔میں نے ان سے کہا کہ ہم یہ کرنے آئے ہیں کہ تلوار نے جس ملک کو مسلمانوں سے چھینا تھا ، محبت سے ہم اس ملک کو دوبارہ فتح کر لیں۔اس کے سوا ہما ر کوئی مقصد نہیں ہے۔اور یہ پیغام ایسا ہے جس پیغام کا مقابلہ دنیا میں کسی طاقت کے بس کی بات نہیں۔جب سے انسان دنیا میں پیدا ہوا ہے، مذاہب کی تاریخ پر آپ نظر ڈالیں ، محبت ہمیشہ جیتی ہے اور نفرت ہمیشہ ہاری ہے۔یہ ناممکن ہے کہ اس اٹل تقدیر کو دنیا کی کوئی قوم بدل سکے۔خدام احمدیت اس لئے خدام احمدیت بھی محبان احمدیت ہونے چاہئیں ، عاشقان احمدیت ہونے چاہئیں۔ان کے دل میں ولولے ہوں پیار اور محبت اور عشق کے۔کیونکہ اس کے سوا ہمارے پاس اور کوئی طاقت نہیں اور اس کے سوا ہم دنیا کو فتح کرنے کا کوئی اور ذریعہ اپنے ہاتھ میں نہیں پاتے۔ایک موقع پر بریڈ فورڈ (انگلستان) میں ایک اخباری نمائندے نے مجھ سے ایک سوال کیا۔وہ ایسی نوعیت کا سوال تھا۔خصوصاً اس پہلو سے اس نے اپنی مطلب براری چاہی کہ آپ محبت کا پیغام تو دیتے ہیں مگر آپ یہ بتائیں کہ جن لوگوں نے آپ پر مظالم کئے ہیں اور شدید مظالم کئے ہیں ان کے لئے آپ کا کیا پیغام ہے؟ میں نے ان کو بتایا کہ ان کے لئے بھی ہمارے دل میں سوائے پیار اور محبت اور رحمت کے اور کوئی جذ بہ نہیں۔جب میں یہ کہہ رہا تھا تو اس وقت مجھے ایک پرانی رؤیا یاد آئی جس میں بعینہ یہی مضمون بیان کیا گیا تھا۔لیکن فی الحال اس وقت میں اس کو آپ کے سامنے بیان نہیں کروں گا۔میں نے وہ رویا جب اس کے سامنے بیان کی تو اس کے چہرے پر اطمینان ظاہر ہوا اور بے اختیار سارے تر و داور شک کے بادل چھٹ گئے اور پوری طرح مطمئن ہو کر اس نے پھر مزید باتیں دریافت کیں اور رنگ بدل گیا اور شک کی بجائے اس کی آنکھوں میں بھی میں نے محبت کے آثار دیکھے۔تو حقیقت یہ ہے کہ محبت ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے مقابل پر دنی نے کبھی کوئی ہتھیار نہ ایجاد کیا ہے، نہ کر سکتی ہے۔اس نے لاز ما فتحیاب ہونا ہے۔