مشعل راہ جلد سوم — Page 485
485 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم میں نے سمجھی میں اس میں آج آپ کو شریک کرنا چاہتا ہوں بہت ٹھنڈے دل سے بغیر کسی غصے کے ایک دلی درد کے ساتھ تا کہ ہو سکتا ہے کہ کسی دل میں یہ بات اتر جائے اور کوئی پاک تبدیلی کسی دل میں پیدا ہو اور ہم ایک قدم اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کا مصداق بننے کے لئے آگے بڑھائیں کہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔اے ہمارے آقا! اے ہمارے رب! ہمیں محض متقی ہی نہیں بلکہ متقیوں کا امام بنانا۔جماعتی عہدے اور ان کے تقاضے وہ تجزیہ میرا یہ تھایا ہے کہ یہاں بہت سے آنے والے پاکستان کے ایسے دیہات و قصبات سے اور بعض ایسے شہروں سے تشریف لائے ہیں جن کو وہاں نظام جماعت کا کوئی خاص تجربہ نہیں ہے۔انہوں نے دنیا داریوں کے عہدے دیکھے ہوئے ہیں، انتخابی مقابلے دیکھے ہوئے ہیں اور عہدوں کو وہ اسی نظر سے دیکھنے کے عادی ہیں۔بے لوث خدمت دین کا ان کو زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ایسے لوگ یہاں تشریف لائے۔یہاں آنے کے بعد ان میں پاک تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔کچھ ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر ڈالی گئیں جن کو ادا کرنے کا ان کو پہلے سے کوئی خاص سلیقہ نہیں تھا۔باقاعدہ کوئی تربیت انہیں نہیں دی گئی تھی۔کچھ انہوں نے غلطیاں کیں کیونکہ ان کو پتہ نہیں کہ ان کے عہدے کے معنے کیا ہیں، ان کو کس طرح اس عہدے کے فرائض کو نبھانا چاہیے، کس طرح اس کے حقوق ادا کرنے چاہئیں۔بعضوں نے ممکن ہے اپنے ساتھیوں سے اس رنگ میں بھی سلوک کیا ہو جیسے ان کو بہت بڑی فضیلت حاصل ہو چکی ہے اور وہ اب حکم چلا سکتے ہیں اور اس حکم چلانے کے نتیجے میں انہوں نے یہ خیال نہ کیا ہو کہ یہ میرے بھائی ہیں اور یہ بات بھول گئے ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سردار کی تعریف ہی یہ کی ہے کہ وہ قوم کا خادم ہوجیسا کہ فرمایا سَيْدُ القَوْمِ خَادِمُهُمْ پس اگر اُن کو یہ پتہ نہ ہو کہ وہ حقیقت میں سید نہیں چنے گئے ہیں بلکہ خادم چنے گئے ہیں اور اگر وہ خادم کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دیں گے تو اللہ کی تقدیر انہیں سید لکھے گی۔پس جہاں تک ان کی اپنی تحریر کا تعلق ہے انہیں اپنے آپ کو خادم ہی لکھنا پڑے گا۔پھر جس طرح نیگیٹیو ( Negetive) سے پازیٹو (Positive) بنایا جاتا ہے خدا کی تقدیر اس بچے اور مخلص خادم کو آسمان پرسید لکھتی ہے اور وہ خدا کی نظر میں اس لائق ٹھہرتا ہے کہ وہ قوموں کا سردار بنایا جائے۔