مشعل راہ جلد سوم — Page 446
446 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اس تاکید سے سکھائی کہ ہر نماز کی ہر رکعت میں وہ دعا مانگو اور خدا سے عرض کرتے چلے جاؤ کہ ہمیں صراط مستقیم عطا فرمائے۔وہ صراط مستقیم وہی ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ دل سے پیدا ہوتی ہے۔انسان اپنی سوچوں کو صحیح اور سیدھی بناتا ہے۔خدا کے تصور سے وہ اپنی کجیوں کو دور کرتا ہے۔اس کے وجود کا ہر ٹیڑھا حصہ سیدھا ہونے لگ جاتا ہے اور جوں جوں اس کے اندر کی کجیاں دور ہو کر اس کے اندر ایک صاف گوئی اور سیدھا رہنے کا شعور پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے وہی اس کی صراط مستقیم ہے اور سب سے زیادہ صراط مستقیم ان معنوں میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی اور قرآن کریم نے ان معنوں میں آپ کے متعلق فرمایا کہ لَا عِوَجَ لَهُ یہ ایسا نبی ہے جس کے اندر کوئی بھی کبھی باقی نہیں رہی کو ئی چیز ٹیڑھی نہیں۔لَا عِوَجَ لَہ کا مضمون حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آخر کیوں بیان کیا گیا ہے؟ کسی میں کبھی نہیں، یہ تو ہم اس کی بڑی تعریف نہیں سمجھتے۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ اگر کہیں کسی کے متعلق کہ کبھی نہیں رہی، تو یہ ایک معمولی بات ہے۔اس کے بعد پھر ترقی ہوتی ہے۔پہلے آدمی ٹیڑھا نہ رہے پھر باقی ترقیات ہیں۔تو اتنا بڑا Compliment، اتنا عظیم الشان تحسین کا کلمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو استعمال ہوا تو اس میں ضرور کوئی گہری بات ہے۔بظاہر یہ فرمایا گیا اس میںکوئی بھی نہیں۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ کسی انسان کے متعلق یہ کہہ دینا کہ اس میں کوئی کبھی نہیں اتنا بڑا تحسین کا کلمہ ہے کہ اس سے بڑا تحسین کا کلمہ اس کے متعلق بولا ہی نہیں جاسکتا۔کیونکہ اس کا دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہے کہ یہ خود صراط مستقیم بن گیا ہے۔یہ ایک ایسا وجود بن چکا ہے جس کے وجود کا ہر حصہ خدا کی طرف مائل ہو چکا ہے اور اسی کا نام صراط مستقیم ہے۔جس طرح ایک لوہے سے مقناطیس بنتا ہے، وہی مضمون ہے جو روحانی دنیا میں صراط مستقیم کا مضمون ہے۔لوہے سے مقناطیس اس طرح بنتا ہے کہ لوہے کا ہر ذرہ ایک ہی طرف قبلہ رخ ہو جاتا ہے۔قبلہ رخ کا محاورہ میں نے عملاً استعمال کیا ہے ورنہ اس کا وہ قبلہ تو نہیں جس کو ہم قبلہ سمجھتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے اس کے اندر بھی ایک قبلہ مقرر فرما دیا ہے اور لوہے کے وجود میں جب ذرے اس کے قبلے کی طرف رخ کر لیتے ہیں جو خدا نے ان کی صفات میں داخل کیا ہے تو ہر ذرہ اس کا ایک ہی رخ کی طرف مائل ہو جاتا ہے، ایک ہی رخ اختیار کر لیتا ہے۔اس کے نتیجے میں اتنی عظیم الشان طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہی طاقت ہے جو آج ساری دنیا کے ہر کارخانے کو چلا رہی ہے۔وہی طاقت ہے جس کے ذریعے زمین اپنے محور کے گرد خاص طریق پر گھوم رہی ہے اور ہر معاملے کو سیدھا رکھے ہوئے ہے۔اگر یہ مقناطیسی طاقت نہ ہو تو انسانی ساری ترقی ایک دم منہدم ہوکر زیرو پوائنٹ (Zero point) تک پہنچ جائے۔اپنی پہلی منزل پر واپس پلٹ جائے۔پس