مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 442 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 442

مشعل راه جلد سوم 442 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی رکھی کہ خدا تعالیٰ سے اگر چہ خونی رشتہ تو کسی کا ممکن نہیں لیکن خالق اور مخلوق کا رشتہ در حقیقت سب سے بڑا اور مضبوط رشتہ ہے اور اس پہلو سے جب ہم خدا تعالیٰ کی صفات کو اپناتے ہیں تو اس رشتے کو مضبوط کرتے ہیں اور جورشتہ ہونا چاہیے، وہ عملاً ظہور پذیر ہو جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ ایک خلق تو وہ ہے جو ہمیں اس رنگ میں عطا ہوئی کہ ہمارا اس میں کچھ بھی دخل نہیں۔جو کچھ ہمیں عطا ہوا، جو صورت بخشی گئی ، جو سیرت پیدائش کے طور پر فطرتا میں ملی ، جو عادات واطوار اس قومی سیرت کے نتیجے میں ہمیں عطا ہوئیں ، جو رنگ ملے، جو جسمانی قلبی یا ذہنی طاقتیں نصیب ہوئیں ، یہ سارے پہلی خلقت سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں بندے کا کچھ بھی اختیار نہیں۔اس خلقت کے لحاظ سے تو خدا کا ہر مخلوق سے برابر کا تعلق ہے۔پھر دعا کے ذریعے وہ زائد تعلق کونسا ہے جو کام آتا ہے۔اس تعلق کے ضمن میں میں نے کچھ مضمون بیان کیا تھا اس کی مزید میں یہ وضاحت کرتا ہوں کہ قرآن کریم نے اس زائد تعلق کا ذکر خلق آخر کے تعلق میں ذکر فرمایا ہے کہ جب انسان خدا کا بندہ بن جائے۔جب خدا اس میں اپنی روح پھونکنے لگے تو اسے ایک خلق آخر عطا ہوتی ہے اور وہ خلق آخر ہے روحانی طور پر جو انسان کو خدا کے مشابہہ بنانا شروع کر دیتی ہے۔ویسے تو خدا کے مشابہ کوئی بھی نہیں۔لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ (الشوری: 12) اس جیسی کوئی چیز بھی نہیں۔پھر اس جیسا بننے کے متعلق قرآن کریم نے خود ہدایت فرمائی ہے۔فرمایا صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَة (البقرۃ:139) اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اس سے بہتر اور کون سا رنگ ہوسکتا ہے؟ پس خدا کے رنگ اختیار کرنے کا مطلب ہے کہ خدا جیسا ہونے کی کوشش کریں یعنی اس کی صفات حسنہ، اس کا جو حسن ساری کائنات میں جلوہ گر ہے، اس میں سے کچھ حصہ پانے کی کوشش کریں اور خدا کی صفات کو سمجھے بغیر یہ ممکن نہیں۔اس لئے قرآن کریم کی مدد سے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی مدد سے اپنے رب کی صفات سے شناسائی ضروری ہے۔یہ شناسائی کا مرحلہ پہلا ہے۔اس کے بعد پھر شناسائی کے نتیجے میں ایک دوستی پیدا ہوتی ہے اور دوستی بڑھتے بڑھتے بعض دفعہ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ قریب ترین تعلق یعنی خونی رشتے بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔یہ وہ منزل ہے جس کی طرف انسان کو آگے بڑھنا ہے اور اس منزل کی طرف آگے بڑھے بغیر انسان خدا تعالیٰ کے دین کا علمبردار نہیں ہوسکتا۔یہ وہ پہلو ہے جو ہر داعی الی اللہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔کیونکہ اس پہلو کو سمجھے بغیر انسان حقیقت میں ( دعوۃ الی اللہ ) کا حق ادا نہیں کر سکتا۔اس مضمون پر بہت کچھ میں جمعے کے خطبے میں کہہ چکا ہوں۔