مشعل راہ جلد سوم — Page 421
421 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم پڑھے تو جانتا ہے کہ یہ محض دل بہلاوے کی من گھڑت کہانیاں ہیں لیکن جب بچہ پڑھتا ہے تو ہمیشہ کے لئے اس کے دل پر بعض اثرات قائم ہو جاتے ہیں۔جو بچہ ایک دفعہ ان کہانیوں کے اثر سے ڈرپوک ہو جائے اور اندھیرے اور انہونی چیزوں سے خوف کھانے لگے پھر تمام عمر اس کی یہ کمزوری دور نہیں کی جاسکتی۔بعض لوگ بچپن کے خوف اپنے بڑھاپے تک لے جاتے ہیں۔اس لئے کہانیوں میں بھی ایسی کہانیوں کو ترجیح دینا ضروری ہے جن سے کردار میں عظمت پیدا ہو، حقیقت پسندی پیدا ہو، بہادری پیدا ہو۔دیگر انسانی اخلاق میں سے بعض نمایاں کر کے پیش کئے گئے ہوں۔ایسی کہانیاں خواہ جانوروں کی زبان میں بھی پیش کی جائیں وہ نقصان کی بجائے فائدہ ہی دیتی ہیں۔عربی کہانیاں لکھنے والوں میں یہ رجحان پایا جاتا تھا کہ وہ جانوروں کی کہانیوں کی صورت میں بہت سے اخلاقی سبق دیتے تھے اور الف لیلیٰ کے جو قصے تمام دنیا میں مشہور ہوئے ہیں ان میں اگر چہ بعض بہت گندی کہانیاں بھی شامل ہیں لیکن ان کے پس پردہ روح یہی تھی کہ مختلف قصوں کے ذریعہ بعض انسانی اخلاق کو نمایاں طور پر پیش کیا جائے۔مثلاً یہ قصہ کہ ایک بادشاہ نے اپنی ملکہ کو ایک کتے کی طرح باندھ کر ایک جگہ رکھا ہوا تھا اور جانوروں کی طرح اس سے سلوک کیا جار ہا تھا اور کتے کو بڑے اہتمام کے ساتھ معزز انسانوں کی طرح محلات میں بٹھایا گیا تھا اور اس کی خدمت پر نوکر مامور تھے۔یہ قصہ ظاہر ہے کہ بالکل فرضی ہے لیکن جو اعلیٰ خلق پیش کرنا مقصود تھا وہ یہ تھا کہ کتا ما لک کا وفادار تھا اور ملکہ دغا باز اور احسان فراموش تھی۔پس ایسی کہانیاں پڑھ کر بچہ کبھی یہ سبق نہیں لیتا کہ بیوی پر ظلم کرنا چاہیے بلکہ یہ سبق لیتا ہے کہ انسان کو دوسرے انسان کا وفادار اور احسان مند رہنا چاہیے۔اسی طرح مولانا روم کی مثنوی بعض کہانیاں ایسی بھی پیش کرتی ہے جو پڑھ کر بعض انسان سمجھتے ہیں کہ یہ کیسے مولا نا ہیں جو اتنی گندی کہانیاں بھی اپنی مثنوی میں شامل کئے ہوئے ہیں جن کو پڑھ کر انسان یہ سمجھتا ہے کہ ان کی ساری توجہ جنسیات کی طرف ہے اور اس کے باہر یہ سوچ بھی نہیں سکتے۔چنانچہ ایک دفعہ لاہور کے ایک معزز غیر احمدی سیاستدان نے مجھے مولانا روم کی مثنوی پیش کی جس میں جگہ جگہ نشان لگائے ہوئے تھے اور ساتھ یہ کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بزرگ انسان تھا یہ اتنا بڑا مرتبہ تھا، ایسا بڑا فلسفی تھا، ایسا صوفی تھا۔لیکن یہ واقعات آپ پڑھیں اور مجھے بتائیں کہ کوئی شریف انسان یہ برداشت کرے گا کہ اس کی بہو بیٹیاں ان کہانیوں کو پڑھیں۔چنانچہ جب میں نے ان حصوں کو خصوصیت سے پڑھا تو یہ معلوم ہوا کہ نتیجہ نکالنے میں اس دوست نے غلطی کی ہے۔یہ کہانیاں جنسیات سے ہی تعلق رکھتی تھیں لیکن ان کا آخری نتیجہ ایسا تھا کہ انسان کو جنسی بے راہ روی