مشعل راہ جلد سوم — Page 412
مشعل راه جلد سوم 412 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی حوصلے کے ساتھ اپنے تک رکھیں اور اس کے اندر مال کے جو ذرائع با قاعدہ خدا تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں ان کو اختیار کریں لیکن لوگوں میں ایسی باتیں کرنے سے پر ہیز کریں۔آئندہ صدی کی عظیم لیڈرشپ کا اہل بنانے والی تربیت آج بھی جماعت میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں اور ایسے واقعات میری نظر میں آتے رہتے ہیں۔مثلاً ایک شخص کو کوئی تکلیف پہنچی ہے اور اس نے بعض مخلصین کے سامنے وہ باتیں بیان کیں۔وہ باتیں اگر چہ کچی تھیں لیکن اس نے یہ نہیں سوچا کہ ان مخلصین کے ایمان کو کتنا بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔بعض واقفین زندگی نے بھی ایسی حرکتیں کیں۔ان کو انتظامیہ سے یا تبشیر سے شکوہ ہوا۔غیر ملکوں کے نواحمدی مخلصین بیچارے ساری عمر بڑے اخلاص کے ساتھ جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ان کو اپنا ہمدرد بنانے کی خاطر، یہ بتانے کے لئے کہ دیکھیں جی ہمارے ساتھ یہ ہوا ہے، وہ قصے بیان کرنے شروع کئے۔خود تو اس طرح بچ کے واپس اپنے ملک میں چلے گئے اور پیچھے کئی زخمی روحیں چھوڑ گئے۔ان کا گناہ کس کے سر پہ ہوگا۔یہ بھی ابھی طے نہیں ہوا کہ انتظامیہ کی غلطی تھی بھی یا نہیں اور جہاں تک میں نے جائزہ لیا، غلطی انتظامیہ کی نہیں تھی۔بدظنی سے سارا سلسلہ شروع ہوا لیکن اگر غلطی ہوتی بھی تب بھی کسی کا یہ حق نہیں ہے کہ اپنی تکلیف کی وجہ سے دوسروں کے ایمان ضائع کرے۔پس سچا وفا دار وہ ہوا کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کی جماعت پر نظر رکھے۔اس کی صحت پر نظر رکھے۔پیار کا وہی ثبوت سچا ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے تجویز کیا تھا اور اس سے زیادہ بہتر قابل اعتماد اور کوئی بات نہیں۔آپ نے سنا ہے، بارہا مجھ سے بھی سنا ہے، پہلے بھی سنتے رہے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت سلیمان کی عدالت میں دو دعویدار ماؤں کا جھگڑا پہنچا جن کے پاس ایک ہی بچہ تھا۔کبھی ایک گھسیٹ کر اپنی طرف لے جاتی تھی کبھی دوسری گھسیٹ کر اپنی طرف لے جاتی تھی اور دونوں روتی اور شور مچاتی تھیں کہ یہ میرا بچہ ہے۔کسی صاحب فہم کو مجھ نہیں آئی کہ اس مسئلہ کو کیسے طے کیا جائے۔چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عدالت میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ طے کرنا تو بڑا مشکل ہے کہ یہ کس کا بچہ ہے۔اگر ایک کا بچہ ہوا اور دوسری کو دے دیا گیا تو بڑا ظلم ہوگا۔اس لئے کیوں نہ اس بچے کو دوٹکڑے کر دیا جائے اور ایک ٹکڑا ایک کو دے دیا جائے اور دوسرا ٹکڑا دوسری کو دے دیا جائے تا کہ نا انصافی نہ ہو۔چنانچہ انہوں نے جلاد سے کہا کہ آؤ اس بچے کو عین بیچ سے نصف سے دوٹکڑے کر کے ایک، ایک کو دے دو اور دوسرا، دوسری کو دے دو۔جو ماں